شام کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بے نتیجہ اجلاس
شام کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مشترکہ بیان جاری کئے جانے کے ساتھ ختم ہو گیا۔فرانس کی اپیل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس شمالی شام میں عفرین کے علاقے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل پایا تاہم عفرین میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بارے میں بیان جاری نہیں ہوا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں فرانس کے نمائندے نے ترک حکام کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کئے جانے پر مبنی پیرس کے موقف کا اعادہ کیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں مستقل امریکی مندوب نکی ہیلی نے شرکت نہیں کی۔دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شامی شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ان علاقوں میں تشدد سے گریز کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔انھوں نے برسلز میں فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات میں شام میں عفرین کے علاقے میں ترکی کی شدید فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اور اس بات کی بھی ضمانت فراہم کی جانی چاہئے کہ فوجی کارروائی صرف داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف ہو۔یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ ایک اور تشویشناک مسئلہ یہ ہے کہ یہ اقدام جنیوا میں سیاسی مذاکرات کے آغاز کو متاثر کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ ترکی کی سرحدوں اور علاقے میں امن و استحکام کی تقویت اور اسی طرح شام کے شہر عفرین میں مسلح مسلح کرد فورس کا قلع قمع کرنے کے بہانے ترکی نے ہفتے کے روز زیتون کی شاخ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی ہے۔شمالی شام کے علاقے عفرین میں ترکی کی اس فوجی کارروائی کے بعد شام کی وزارت خارجہ نے ترکی کے فوجی اقدام کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ ترکی کا یہ فوجی اقدام شام کے قومی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے -