سعودی فوجی اہداف پر یمنی فوج کے حملے
یمنی فوج کے جوانوں نے سعودی جارحیت کے جواب میں جنوبی سرحدی علاقے میں سعودی فوجی اہداف کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے نشانے بازوں نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے جیزان میں الفریضہ چھاؤنی پر حملہ کر کے کم سے کم چھے سعودی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فوج کے توپ خانے نے بھی نجران کے علاقے میں واقع دو سعودی فوجی اڈوں الشرفہ اور السدیس پر گولہ باری کی ہے جس میں کئی سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
جنوب مغربی یمن کے صوبے تعز کے علاقے الصلو میں سعودی اتحادیوں پر یمنی فوج کی گولہ باری میں بھی درجنوں اتحادی فوجیوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ کے علاقے حرض اور میدی پر آٹھ سے زائد بار بمباری کی۔
سعودی عرب نے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے مکانات تباہ ہو جانے کے باعث کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ اور بعض دوسرے مغربی ممالک، جنگ یمن میں سعودی عرب کو لاجسٹک اور انٹیلی جینس سپورٹ فراہم کرنے کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کر رہے جن میں کلسٹر بم بھی شامل ہیں کہ جن کا استعمال عالمی سطح پر ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔
درایں اثنا اطلاعات ہیں کے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اسلحہ کی خریداری کے لیے عنقریب برطانیہ کا دورہ کرنے والے ہیں جس کے خلاف برطانوی رائے عامہ کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
روزنامہ گارڈین نے محمد بن سلمان کے مجوزہ دورے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت برطانیہ کے لیے سعودی عرب کو اسحلہ کی فروخت سے حاصل ہونے والے بیس ملین پونڈ کی آمدنی یمنی بچوں کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
اخبار کے مطابق حکومت برطانیہ نے اسحلہ بنانے والے کارخانوں کے منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جنگ پسندانہ پالیسیوں پر خاموشی اخیتاری کر رکھی ہے۔
روزنامہ گارڈین کے مطابق حکومت برطانیہ بھی یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم میں برابر کی شریک ہے۔