یمن پر سعودی جارحیت، متعدد عام شہری شہید و زخمی
یمن پر سعودی جارحیت میں متعدد یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اہداف کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ حجہ کے شہروں میدی اور حرض کو اٹھارہ بار اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے سعودی جنگی طیاروں نے جنوب مغربی یمن کے صوبے تعز پر بمباری کی تھی جس میں تین عام شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔سعودی جارحیت کے جواب میں یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں قائم فوجی اہداف کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ادھر یمن کی عوامی رضاکار فورس کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران انجام پانے والی مختلف کاروائیوں میں جارح سعودی اتحاد کے دوسو چوبیس فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ سعودی اتحاد کے فوجی اہداف پر دو سو راکٹ اور میزائل فائر کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق فروری کے مہینے میں سعودی فوجی اتحاد کی بیس بکتر بند گاڑیاں، پانچ ٹینک اور ایک سو پچیس فوجی آلات اور ہتھیاروں کو تہس نہس کرنے کے علاوہ سعودی عرب کا جاسوس طیارہ بھی مارگرایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران یمنی فوج کے نشانہ بازوں نے انہتر سعودی فوجیوں اور مستعفی صدر منصورہادی کے حامی ایک سو پینتالیس مسلح حامیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ۔یمن کی عوامی رضاکار فورس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، فروری کے مہینے میں تین قاہر میزائل، تین دوسرے بیلسٹک میزائل سعودی دشمن کے فضائی ٹھکانوں پر فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں دشمن کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ یمن متحدہ عرب امارات کے فوجی اڈے کو بھی کئی بار میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔سعودی عرب نے، امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر مشرق وسطی کے غریب اسلامی ملک یمن کو پچھلے تین برس سے وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کی وجہ سے ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی لاکھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔