یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی جارحیت
سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے شمالی یمن کے صوبے صعدہ کے شہر منبہ کے علاقوں الدوشہ اور آل عمران پر تین بار بمباری کی جس میں ایک کمسن بچہ شہید ہو گیا۔
المسیرہ ٹی وی کے حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صوبے صعدہ کے شہر شدا پر بھی دو بار بمباری کی۔
صعدہ سے صنعا کے راستے میں واقع المذاب علاقے پر بھی سعودی جنگی طیاروں نے حملہ کیا اور اس علاقے کو تین بار جارحیت کا نشانہ بنایا۔ ابھی تک ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ نیں ملی ہے۔
سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی جنوبی اور جنوب مغربی یمن کے مختلف علاقوں منجملہ صوبے تعز اور لحج میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
یمنی فوج نے اسی طرح گائیڈیڈ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے شمالی یمن کے صوبے الجوف میں خب و الشعف کے علاقے میں سعودی اتحاد کی فوجی گاڑیوں پر حملہ اور انھیں تباہ کر دیا۔
جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں بھی یمنی فوج نے مختلف علاقوں میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ فوجیوں نے منگل کے روز صوبے الجوف کے مغرب میں واقع المصلوب میں یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے جانبازوں پر گھات لگار حملہ کر دیا جس میں انصاراللہ کے آٹھ مجاہد شہید ہو گئے۔
واضح رہے کہ یمن اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے جہاں 83 لاکھ افراد درآمدی خوراک پر انحصار کرتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے قحط سے متاثرہ بچوں کے لیے فوری کارروائی پر زور دیا گیا ہے ۔
سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت میں مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس میں اب تک تیس ہزار سے زائد یمنی شہری شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ حملے یمن کے عوام کے قتل عام کے علاوہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کی بھی ویرانی اور تباہی و بربادی کا باعث بنے ہیں۔
سعودی عرب نے اس ملک کے عوام کو شدید محاصرے میں لے رکھا ہے اور اس وقت یمنی عوام وسیع پیمانے پر انسانی بحران سے دوچار ہیں کہ جسے صدی کا انسانی المیہ کہا جا رہا ہے۔