غوطہ شرقی میں شام کا قومی پرچم لہرا دیا گیا
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i321126-غوطہ_شرقی_میں_شام_کا_قومی_پرچم_لہرا_دیا_گیا
شام میں فائربندی کے نگراں روسی مرکز نے اعلان کیا ہے کہ دمشق کے مضافات میں واقع صوبے ریف دمشق کے علاقے غوطہ شرقی پر شامی فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شہر دوما میں شام کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۳:۲۳ Asia/Tehran
  • غوطہ شرقی میں شام کا قومی پرچم لہرا دیا گیا

شام میں فائربندی کے نگراں روسی مرکز نے اعلان کیا ہے کہ دمشق کے مضافات میں واقع صوبے ریف دمشق کے علاقے غوطہ شرقی پر شامی فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شہر دوما میں شام کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب واقع غوطہ شرقی ایک ایسا اسٹریٹیجک علاقہ ہے جس پر دہشت گرد گروہوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور اس علاقے سے دہشت گرد آئے دن شامی شہریوں پر مختلف قسم کے ہتھیاروں سے حملے کیا کرتے تھے۔
شامی عوام کی حمایت میں اس ملک کی فوج نے غوطہ شرقی کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لئے ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور اس علاقے کے عوام کا تحفظ کرتے ہوئے غوطہ شرقی سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا شروع کیا تھا۔
شام میں فائربندی کے نگراں روسی مرکز کے سربراہ یوری یوتو شنکو نے شہر دوما پر، کہ جس پر جیش الاسلام دہشت گرد گروہ نے قبضہ کر رکھا تھا، شامی فوج کا مکمل کنٹرول ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی تاریخ میں ایک اہم واقعے کی حیثیت سے شہر دوما کے مختلف علاقوں میں شام کا قومی پرچم لہرا دیئے جانے سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ شہر دوما پر اب دہشت گردوں کا کنٹرول نہیں ہے اور اس شہر کو ان کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس شہر میں نظم و نسق اور امن و امان کے قیام کے لئے سیکورٹی اہلکار مکمل تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس شہر کو حکومت شام کے کنٹرول میں دیا جا سکے۔
شام کے صدر بشار اسد کی پریس مشیر بعثینہ شعبان نے بھی غوطہ شرقی کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابی اور مغربی ملکوں کے حالیہ بیانات و دھمکیوں کو شام کے خلاف نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام امریکی حملے کی دھمکی اور یا ممکنہ جارحیت کے نتائج خطرناک تاہم شام کے مفاد میں ہوں گے۔ بعثینہ شعبان نے کہا کہ مغربی جنگی جنون دہشت گردوں کے مفاد میں ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کی جنگ سے مغربی ملکوں کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے جبکہ یہ جنگ ان کے خلاف اتحاد کے قیام پر منتج ہوئی ہے۔
انھوں نے دو ہزار تیرہ کے مقابلے میں روس، چین، شام، ایران اور حزب اللہ پر مشتمل محور و اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ملکوں نے دھونس دھمکیوں کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنے کی بہت کوشش کی مگر شام کی عنقریب مکمل کامیابی جلد ہی علاقے اور پوری دنیا کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دے گی۔
شام کے صدر بشار اسد کی پریس مشیر بعثینہ شعبان نے شام پر حملے کے لئے امریکہ کو اکسانے والے عامل حیثیت سے اسرائیل کو علاقے کے حالات و جنگ میں شکست خوردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی آل سعود حکومت بھی دو ہزار گیارہ سے شام کے خلاف جنگ میں ملوث ہے اور شام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے محاذ میں سعودی عرب بھی پیش پیش رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے ٹوئٹ میں شام پر اپنے جدید اور گائیڈد میزائیلوں سے حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جس پر انھیں سخت خبردار کیا گیا ہے۔