دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی کامیابی
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i331051-دہشت_گردوں_کے_مقابلے_میں_شامی_فوج_کی_کامیابی
شامی فوج نے اردن کی سرحد سے ملے شام کے بارڈر ٹرمنل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراتے ہوئے قومی پرچم لہرا دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۴:۳۵ Asia/Tehran
  • دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی کامیابی

شامی فوج نے اردن کی سرحد سے ملے شام کے بارڈر ٹرمنل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراتے ہوئے قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

شام کے جنوبی علاقوں میں شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی نمایاں کامیابی، دہشت گردوں کے سقوط و زوال اور ان کے انتشار کا باعث بنی ہے۔ نصیب نامی سرحدی گذرگاہ دہشت گرد گروہوں کے شام میں داخل ہونے اور ہتھیاروں کی منتقلی کی اہم ذریعہ بنی رہی ہے۔
اس گذرگاہ پر شامی فوج کے کنٹرول سے جنوبی شام کے علاقوں پر اہم اثرات مرتب ہوں گے خاص طور سے ایسی صورت میں کہ اس علاقے میں شامی فوج نے تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی ہے۔
دریں اثنا شامی فوج کے ایک ذریعے نے دمشق - امّان روڈ پر شامی فوج کے ہاتھوں امن کی برقراری کی خبر دی ہے۔
اس ذریعے کا کہنا ہے کہ شامی فوج کو یہ کامیابی وسیع فوجی کارروائی اور نصیب نیز ام المیاذن میں شامی فوج کے داخل ہونے کے نتیجے حاصل ہوئی ہے۔
اس ذریعے کے مطابق اب شامی فوج اس روڈ سے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے کھڑی جانے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شام سے ہی ایک اور خبر یہ ہے کہ شامی فوج کے ایک کمانڈر نے درعا میں اعلان کیا ہے کہ اس صوبے کے نوّے فیصد علاقوں پر شامی فوج کا کنٹرول ہو گیا ہے اور اس علاقے کے صرف پانچ دیہاتوں پر دہشت گردوں کا قبضہ باقی بچا ہے جبکہ ان دیہاتوں کو بھی آزاد کرائے جانے کی کوشش جاری ہے۔
دمشق کے اطراف میں غوطہ شرقی اور غوطہ غربی کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرائے جانے کے بعد شامی فوج کی توجہ اب درعا کی طرف مرکوز ہو گئی ہے اور شام کا یہ علاقہ اردن کی سرحد نیز جولان کی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔
جنوبی شام میں دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں شامی فوج کی تیز رفتار کامیابی پر دہشت گرد گروہوں کی اصلی حامی کی حیثیت سے غاصب صیہونی حکومت کو گہری تشویش لاحق ہو گئی ہے۔
جنوبی شام کے بدلتے حالات نے غاصب صیہونی حکومت کو اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دمشق اب پورے ملک پر اپنا کنٹرول ہو جانے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔