شام پر صیہونی حکومت کی جارحیت
شام کے ذرائع ابلاغ نے حماہ کے مغربی مضافات میں واقع وادی العیون پر صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں کے حملے کی خبر دی ہے۔
شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ مغربی حماہ کے مضافاتی علاقے میں غاصب صیہونی حکومت کے میزائل حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے-
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے اینٹی ایر کرافٹ یونٹ نے اسرائیل کے پانچ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔غاصب صیہونی حکومت شام میں دہشت گردوں کی حمایت و مدد کی غرض سے ہمیشہ شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہتی ہے۔
صیہونی فوج نے بھی منگل کے روز ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران شام میں دو سو سے زائد علاقوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان حملوں میں آٹھ سو سے زائد میزائلوں اور مارٹر گولوں کا استعمال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب شامی فوج کے اینٹی ایر کرافٹ یونٹ نے بدھ کے روز شمال مغرب میں لاذقیہ کے مضافات میں واقع البصہ کے علاقے میں دو نامعلوم ڈرون طیاروں کو مار گرایا ہے۔
شامی فوج کے اینٹی ایر کرافٹ یونٹ نے پچّیس اگست دو ہزار اٹھارہ کو بھی دہشت گردوں کے تین ڈرون طیاروں کو بھی کہ جن کے ذریعے وہ مغربی شام کے حماہ شہر میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، تباہ کر دیا تھا۔
شام کا بحران دو ہزار گیارہ میں امریکا، اسرائیل اور علاقے کے بعض عرب ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے سے شروع ہوا-
اس بحران کا مقصد علاقے کی صورت حال کو اسرائیل کے مفاد میں تبدیل کرنا تھا لیکن شامی فوج نے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی مشاورت اور روس کی حمایت سے شام میں داعش کا خاتمہ کر دیا جبکہ دیگر دہشت گرد گروہوں کا بھی جلد ہی خاتمہ کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو شام میں دہشت گردوں کی شکست و ناکامی پر گہری تشویش لاحق ہے۔