Nov ۲۹, ۲۰۱۸ ۱۸:۳۷ Asia/Tehran
  • یمن جنگ میں سعودی عرب کے لئے امریکی حمایت بند کئے جانے کی منظوری

امریکی سینیٹ نے جنگ یمن میں سعودی عرب کے لئے امریکی حمایت بند کئے جانے کے مسئلے پر ہونے والی ووٹنگ کی بنیاد پر سعودی عرب کے لئے امریکی حمایت بند کئے جانے کی منظوری دے دی۔

جنگ یمن کے مسئلے کا جائزہ نہ لئے جانے کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ اور وزیر جنگ جیمز مٹیس نیز وائٹ ہاؤس کی اپیل کے باوجود امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز سینتیس مخالف ووٹوں کے مقابلے میں ترسٹھ موافق ووٹوں سے جنگ یمن میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کی جاری حمایت بند کئے جانے کے مسئلے کا جائزہ لئے جانے کی راہ ہموار کر دی۔

اس اقدام کے تحت امریکی سینیٹ نے جنگ یمن میں سعودی عرب کے لئے امریکی حمایت بند کئے جانے سے متعلق قرارداد کے مسئلے پر غور کئے جانے کی منظوری دے دی۔

ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے جنگ یمن کا جائزہ لئے جانے سے متعلق سینیٹ کے اجلاس میں کہا ہے کہ امریکہ کو یمن کی خونریز جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے اس لئے یمن میں کہ امریکہ کی حمایت کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ عام شہریوں کے قتل عام کا بازار گرم ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی پارٹی کے اس سینیٹر نے کہا کہ یمن میں صورت حال نہایت ابتر ہو چکی ہے اور جنگ یمن میں سعودی عرب کی حمایت میں امریکی مداخلت سے صورت حال مزید ابتر ہو رہی ہے۔

امریکی وزرائے جنگ و خارجہ نے سینیٹ کے اجلاس میں اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولیعہد بن سلمان کا کوئی کردار نہیں رہا ہے، امریکی قانون وضع کرنے والے اراکین سے درخواست کی ہے کہ وہ جنگ یمن میں امریکی مداخلت کی حمایت کریں۔

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں کمی، امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے ایک غلطی ہے اور اس سے سعودی عرب میں اس ملک کے حکام صحیح راستہ انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بدھ کی رات دھمکی دی ہے کہ جنگ یمن میں سعودی عرب کے لئے امریکی حمایت بند کئے جانے کے قانون کا مسودہ ناقابل قبول ہے اور اس میں اصلاح کی ضرورت ہے  ورنہ امریکی صدر ٹرمپ اس قانون کو ویٹو کر دیں گے۔