Feb ۰۷, ۲۰۲۶ ۱۶:۴۹ Asia/Tehran
  • ایران۔امریکہ مذاکرات اچھی شروعات، اعتماد سازی کے لیے طویل سفر درپیش: سید عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کواچھی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے طویل سفر طے کرنا ہو گا۔ دریں اثنا، عباس عراقچی نے الجزیرہ فورم سے خطاب میں کہا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کسی سیاسی کھلاڑی کو قانون سے بالاتر کام کرنے کی اجازت دے کر کوئی خطہ مستحکم رہ سکتا ہے ۔

سحرنیوز/ایران:  ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کوانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات بالواسطہ طور پر ہوئے اور صرف اور صرف ایٹمی پروگرام پرتوجہ مرکوز کی گئی۔

سید عباس عراقچی نے تاکید کی کہ صفر افزودگی کا مسئلہ بنیادی طور پر مذاکرات کے فریم ورک سے باہر ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات کو قبول نہیں کرتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افزودگی ہمارا مسلمہ حق ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی حملے بھی ایران کی ایٹمی صلاحیت کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جو افزودگی سے متعلق خدشات کو دور کرے اور ضروری یقین دہانی فراہم کرے ۔

سید عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کا میزائل پروگرام ایک دفاعی مسئلہ ہے اور اس پر نہ تو اب اور نہ ہی مستقبل میں بات چیت کی جاسکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا راستہ کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا دباؤ سے پاک ہونا چاہیے اورایران کو امید ہے کہ امریکہ کی طرف سے بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کو جاری رکھنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا ہدف منصفانہ اور باہمی مفادات کے تناظر میں ہونا چاہئے اور اس کے لیے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور حقیقت پسندانہ مذاکرات کے انعقاد کی ضرورت ہے۔

سید عباس عراقچی نے سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے ایرانی جوہری مسئلے کے حل کا واحد راستہ مذاکرات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ افزودگی کی سطح کا تعین ملکی ضروریات کی بنیاد پر کیا جائے گا اور ایران سے افزودہ یورینیم کا اخراج بھی نا قابل قبول ہے۔

 

دریں اثنا، وزیرخارجہ نے قطر میں الجزیرہ فورم سے خطاب میں کہا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کسی اداکار کو قانون سے بالاتر کام کرنے کی اجازت دے کر کوئی خطہ مستحکم رہ سکتا ہے استثنیٰ کا نظریہ امن نہیں لاسکتا بلکہ یہ وسیع تنازعات کی طرف لے جاتا ہے. انہوں نے کہا کہ استحکام کا راستہ واضح ہے، فلسطین کے لیے انصاف، جارحین کے لیے جوابدہی، قبضے اور نسل پرستی کا خاتمہ، خودمختاری، مساوات اور تعاون پر مبنی علاقائی نظم و نسق ضروری ہے۔۔عراقچی کا کہنا تھا مسلم دنیا، عرب دنیا اور جنوب کے ممالک کو ایک متحدہ سفارتی محاذ بنانا ہوگا۔ اسلامی تعاون کی تنظیم، عرب لیگ، اور علاقائی تنظیموں کو بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدام کی طرف بڑھنا چاہیے۔

 

ٹیگس