موت سے پہلے صدام نے کیا کہا تھا؟
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i345591-موت_سے_پہلے_صدام_نے_کیا_کہا_تھا
عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کو  پھانسی کی سزا دینے والے ججوں کے پینل کے سینئر رکن منیر حداد نے عراقی آمر کی زندگی کے آخری لمحات کا حال بیان کیا ہے۔
(last modified 2026-01-16T11:59:24+00:00 )
Mar ۱۱, ۲۰۱۹ ۰۸:۴۲ Asia/Tehran
  • موت سے پہلے صدام نے کیا کہا تھا؟

عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کو  پھانسی کی سزا دینے والے ججوں کے پینل کے سینئر رکن منیر حداد نے عراقی آمر کی زندگی کے آخری لمحات کا حال بیان کیا ہے۔

عراق کے سپریم کورٹ میں اپیل کورٹ کے نائب سربراہ منیر حداد نے الفرات ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی میں صدام کو پھانسی کی سزا سنانے کی قیمت چکا رہا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ صدام کی بعث پارٹی کے باقی بچے عناصر مجھے متعدد طریقوں سے پریشان کرتے رہتے ہیں ۔

اسی طرح، جسٹس حداد نے عراق کی قومی سیکورٹی کے سابق مشیر موفق ربیع کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدام کی گردن میں پھانسی کا پھندا خود انہوں نے ڈالا تھا اور اسے پھانسی کے تختے پر چڑھایا تھا۔

عراق کے سینئر جج نے کہا کہ موفق ربیع کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا  کیونکہ وہ نہ تو جج تھے اور نہ ہی اپیل کورٹ کے سربراہ اور نہ ہی وزیر اعظم ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب عدالت نے صدام کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا تو وزیر اعظم اور نہ ہی صدر نے اس کی مخالفت کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود صدام کی وصیت لکھی اور صدام سے اس کی آخری خواہش پوچھی ۔

انہوں نے کہا کہ پھانسی سے ٹھیک پہلے جب میں نے صدام سے پوچھا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ تو صدام نے کہا جیتے رہو بیٹا ۔

جسٹس منیر کا کہنا ہے کہ صدام اس کیس کی سماعت  اور تحقیقات کرنے والے تمام ججز کو پہچانتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خود بعثی ہونے کے باوجود صدام نے بعثیوں پر الخلد فوجی چھاونی میں بہت ظلم کئے تھے۔

عراق کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ صدام انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے تھے اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کا قتل عام کیا تھا جس کے لئے سزائے موت کافی نہیں تھی۔