دریائے اردن کے مغربی کنارے میں حفاظتی انتظامات سخت
Aug ۰۱, ۲۰۱۵ ۱۱:۵۹ Asia/Tehran
صیہونی حکومت نے دریائے اردن کے مغربی کنارے اور مسجد الاقصی میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔
المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے ایک شیر خوار فلسطینی بچے کو صیہونیوں کے ہاتھوں جلائے جانے کے واقعہ کے بعد مغربی کنارے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں اور مسجد الاقصی میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صیہونی فوجی اس جرم کے بعد فلسطینیوں کے غم و غصے کے پیش نظر چوکس ہو گئے ہیں۔ صیہونیوں نے جمعے کے دن مغربی کنارے میں واقع ایک دیہات پر حملہ کر دیا اور فلسطینیوں کے دو رہائشی مکانات کو آگ لگا کر ایک شیر خوار بچے کو زندہ جلا دیا۔ اس حملے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ نے مغربی کنارے میں شیر خوار بچے کو جلانے کے صیہونیوں کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے بیان میں صیہونی حکومت کو اس فلسطینی شیر خوار بچے کو جلانے کے انتہا پسند صیہونیوں کے اقدام کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے- فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ نے صیہونی حکومت کو یہ مسئلہ بین الاقوامی عدالتوں میں اٹھانے کی دھمکی بھی دی ہے اور اس حکومت سے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر اپنے مظالم بند کرے۔