اسماعیل ہنیہ کی فلسطینیوں کے اتحاد پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/middle_east-i195920-اسماعیل_ہنیہ_کی_فلسطینیوں_کے_اتحاد_پر_تاکید
فلسطین کی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے اتحاد پر تاکید کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۳, ۲۰۱۵ ۱۲:۳۵ Asia/Tehran
  • اسماعیل ہنیہ کی فلسطینیوں کے اتحاد پر تاکید

فلسطین کی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے اتحاد پر تاکید کی ہے۔

فلسطین کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ اور سینیئر رہنما اسماعیل ہنیہ نے اتوار کے دن شہید لیث الخالدی کے اہل خانہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ان کو لیث الخالدی کی شہادت کی تعزیت پیش کی۔ اسماعیل ہنیہ نے اس ٹیلی فونی گفتکو میں مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی استقامت اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی کوشش کو سراہا۔ لیث الخالدی شہید کے والد نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے قدس اور فلسطین کے دفاع میں فداکاری کی اور شہادت پائی اور وہ پوری زندگی فلسطینیوں کے حقوق، فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور مقدس فلسطینی سرزمین کو صیہونیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ واضح رہے کہ فلسطینی نوجوان لیث الخالدی جمعے کے دن صیہونی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شدید زخمی ہو گیا تھا اور وہ ہفتے کے دن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ دوسری جانب فلسطین کی تحریک حماس نے صیہونی حکومت کے ساتھ آشتی کرنے پر مبنی نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کے موقف پر تنقید کی ہے۔ تحریک حماس نے ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں آیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعت میرٹس کے وفد سے ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ امن کی پالیسی پر قائم رہنے سے متعلق جو بیانات دیئے ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ان بیانات سے اسرائیل کو سیکورٹی حاصل نہیں ہو گی۔ حماس کے بیان میں مزید آیا ہےکہ محمود عباس کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ان کے پیش نظر دشمن کی سیکورٹی ہے اور وہ فلسطینی بچوں کی سلامتی کو نظر انداز کرتے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے اتوار کے دن رام اللہ میں فلسطینی انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت زہافا جلون کر رہے تھے۔ محمود عباس نے اس ملاقات میں جنوبی نابلس میں فلسطین کے ایک شیر خوار بچے کو زندہ جلانے پر مبنی صیہونیوں کے حالیہ جرم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم دہشت گردی اور تشدد کو قبول نہیں کریں گے اور امن کی جانب اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ حماس نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے-