قدس میں فلسطینیوں کے مکانات ڈھائے جانے کی بڑے پیمانے پر مذمت
Aug ۲۴, ۲۰۱۵ ۱۱:۰۰ Asia/Tehran
غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیون کے گھروں کو ڈھائے جانے کے خلاف دنیا کے اکتیس بین الاقوامی اداروں نے احتجاج کیا ہے
صیہونی حکومت کے ہاتھوں منصوبہ بند طریقے سے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے گھر گرائے جانے پر اکتیس بین الاقوامی اداروں نے صدائے احتجاج بلند کی ہے- ان میں سے بعض اداروں نے یورپی یونین کو مالی مدد فراہم کی ہے اور اسے بیت المقدس اور " ج " نامی علاقے میں بھیجنے کی اپیل کی ہے- "ج " علاقہ، غرب اردن کی ساٹھ فیصد اراضی پر مشتمل ہے- آکسفام نامی ادارے کے رکن کسٹین ہیگن نے فلسطینیوں کے مکانات گرائے جانے کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو خاص طور پر " ج " کے علاقے میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس اقدام سے ایک فلسطینی ملک کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت رواں سال کے آغاز سے اب تک مقبوضہ بیت المقدس میں پچاس سے زیادہ عمارتیں اور مکانات تباہ کر چکی ہے جبکہ " ج " کے علاقے میں تین سو ساٹھ سے زیادہ عمارتیں اور مکانات تباہ کئے جا چکے ہیں۔az24082015