پاکستانی فوج نے چھوٹو گروپ کے خلاف آپریشن شروع کر دیا
پاکستانی فوج نے صوبہ پنجاب کے کچے کے علاقے میں باضابطہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نےکچے کے علاقے میں روپوش لٹیروں اور ڈاکوؤں کےسب سے بڑے گینگ چھوٹو گروپ کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے اور مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کرنے کی جو مہلت دی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے مقامی میڈیا آوٹ لیٹ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فوج نے چھوٹو گینگ کو پیر کی دوپہر دو بجے تک ہتھیار ڈالنے کی مہلت دی تھی۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ مہلت کے خاتمے اور آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی راجن پور میں انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ چھوٹو گینگ نے یرغمال بنائے گئے چوبیس پولیس اہلکاروں میں سے چند کو رہا کرتے ہوئے بقیہ اہلکاروں کی رہائی کے بدلے محفوظ راستے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس مطالبہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
راجن پور کے کچے کے علاقوں میں پولیس کے ذریعے شروع کیے گئے آپریشن کے دوران چھے پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ چھوٹو گروپ کے نام سے مشہور ڈاکوؤں کے ایک گینگ نے چوبیس پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔
پولیس آپریشن کی ناکامی کے بعد حکومت پاکستان نے فوج سے مدد کی درخواست کی تھی۔ پاکستانی فوج نے پندرہ اپریل سے کچے کے علاقے میں جاری آپریشن ضرب آہن کی کمان سنبھالی تھی اور اس کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے چھوٹو گروپ کے ٹھکانوں پر حملے بھی کئے تھے۔