دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان سے امریکہ کا مطالبہ
امریکا نے پاکستان سے دہشت گرد گروہ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پچھلے ہفتے کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے کے بعد پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے-
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل میں افغان خفیہ ادارے کے مرکزی دفتر این ڈی ایس پر حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی تھی جبکہ افغان حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری حقانی نیٹ ورک پر عائد کی ہے- اس حملے میں چونسٹھ افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے- کابل دہشت گردانہ بم دھماکے کی، پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی تھی-
امریکی وزارت خارجہ کی پریس دفتر کی انچارج الیزبتھ ٹروڈیو نے افغان حکومت کے اس دعوے پر، کہ حملہ کرنے والے گروہ کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی، کہا کہ اسلام آباد دہشت گردوں کو اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے-
کابل میں دہشت گردانہ بم دھماکے کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے دو مئی کو انجام پانے والا اپنا دورہ پاکستان بھی ملتوی کر دیا ہے- افغان حکومت کا کہنا ہے کہ کابل حملہ حقانی نیٹ ورک نے کیا ہے جس کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے-
دوسری طرف پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے اور افغانستان میں سرگرم کسی بھی دہشت گروہ کو اس کی حمایت نہیں حاصل نہیں ہے-