افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی انتظامی امور سے ہم آہنگ ہیں، سرتاج عزیز
پاکستان کے مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد سے غیر قانونی آمد و رفت کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی سے امور انجام دیئے جا رہے ہیں۔
خارجہ امور میں پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور علاقے میں امن کا تحفظ، حکومت کی ترجیحات میں سے ہے۔ انھوں نے افغانستان میں قیام امن کو حکومت پاکستان کی ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سرتاج عزیز نے تاکید کے ساتھ کہا کہ افغان شہریوں کو اب قانونی دستاویزات اور ویزا کے بغیر پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے بارے میں مفاہمت ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں جامع طریقوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
خارجہ امور میں پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں موثر اقدامات کئے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ شنگھائی اجلاس کے موقع پر پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان سرحدی امور سمیت مختلف مسائل کے حل کے بارے میں مفاہمت ہو گئی ہے۔