افغانستان، پاکستان میں امریکہ کے صلاح و مشوروں کا اصلی محور
امریکی حکومت اور سینیٹ کے ارکان اور نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے اسلام آباد میں اپنے صلاح و مشوروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی جس میں افغانستان کا مسئلہ سرفہرست رہا۔
ارنا نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے امریکی سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین اورامریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان رچرڈ اولسن نے الگ الگ ملاقاتیں کی۔ ملاقات میں آرمی چیف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں پاکستانی فوج کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا۔
آرمی چیف نے وفد کو بتایا کہ غیرمنظم سرحد اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی دہشتگردی کے خلاف کامیابیوں کے تسلسل میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آرمی چیف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور پاک افغان سرحد پر موثر انتظام کاری پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور رچرڈ اولسن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبے میں تعمیری تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اعزاز چوہدری نے افغانستان کے بارے میں چار فریقی مفاہمی گروپ میں پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ افغانستان میں قیام امن اور مفاہمی عمل کے لئے انتہائی اہم اور موثر پلیٹ فارم ہے۔
پاکستانی حکام کو امید ہے کہ امریکی وفد کے دورے سے کانگریس میں پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔
اب تک امریکی وفد کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے حوالے سے سینیٹر جان میک کین کے دفتر سے کوئی بیان جاری نہیں ہو اہے۔