پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کی حمایت کا دعوی مسترد
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کی جانب سے دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہگاہیں فراہم کرنے کے کابل اور واشنگٹن کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے جمعہ کو کابل اور واشنگٹن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو افغانستان میں قیام امن کے عمل کا پابند سمجھتا ہے۔
نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا بھینٹ چڑھا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے دن کابل میں افغان پارلیمنٹ کے قریب دھماکے کے خلاف افغان شہریوں کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا پاکستانی سفارت خانے پر افغانستان میں جاسوسوں کا جال ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان پارلیمنٹ کے قریب دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد افغان حکام نے ایک بار پھر اس بات کا دعوی کیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور دہشتگرد اس راستے افغانستان میں آمد و رفت کرتے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے مگر اس ملک میں دہشتگردی سے متعلق مسائل اب بھی موجود ہیں۔