افغانستان میں امن وامان کی ابتر صورتحال
پاکستان کےترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن وامان کی ابتر صورتحال اور دہشتگردی وہاں کی اندرونی صورتحال کی وجہ سے ہے اسی لئے 15 سال سے افغانستان میں فوجی کارروائیوں کا مثبت نتیجہ نہیں نکلاہے۔
اپاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے آج اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ دہشتگردی وہاں کی اندرونی صورتحال کی وجہ سے ہے ۔ وہاں دہشت گرد عناصر موجود ہیں جن کی نشان دہی بھی کی گئی لیکن افغان حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، افغان حکومت کی جانب سے الزام تراشیوں کے ذریعے ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، انہیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ کردارادا کیا اور پاکستان کا انسداد دہشت گردی کا ٹریک ریکارڈ دوسرے ممالک کی نسبت سب سے بہتر ہے، ہم نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پہلے بھی کردارادا کیا اورآئندہ بھی افغان امن و استحکام کے لیے پرعزم ہیں، خطے کے لیے افغانستان میں امن انتہائی ضروری ہے، اس کے لیے کئی ممالک مختلف طریقوں سے کوششیں کررہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا بیان آج ایسے میں سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے اعلی حکام پاکستان پر اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں اور گذشتہ ہفتے کابل،قندھار اور ھرات میں افغانستان کے عوام نے پاکستانی مداخلت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئےتاہم پاکستان نے اب تک افغانستان کے تمام الزامات کو مسترد کیاہے۔