ذکرکی راه میں رکاوٹیں
غفلت اور فراموشی ایک اہم رکاوٹ
وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً وَ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَعْمى قالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيراً قالَ كَذلِكَ أَتَتْكَ آياتُنا فَنَسِيتَها وَ كَذلِكَ الْيَوْمَ تُنْسى(طه، 124 ـ 126)
"اعراض" یعنی جان بوجھ کر غفلت کرنا. ذکر سے اعراض یعنی اگر انسان کے لئے خدا کی یاد کا موقع فراہم بھی ہو پھر بھی وه منہ پھیر لے۔
ایسے شخص کی زندگی سخت ہوگی. اور یہ زندگی کے سخت ہونے کا تعلق صرف آخرت سے نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی اس کی زندگی پریشانی اور بے چینی کا شکار ہوگی. یہی بے چینی اور بے آرامی انکی دنیوی زندگی کی سختی کا سبب ہے۔
آخرت میں بھی روز محشر اور قیامت کے آغاز سے ہی ان کی مشکلات شروع ہو جائیں گی. ان کی پہلی مشکل یہ ہے کہ محشر کے میدان میں اندھے داخل ہوں گے: وَ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَعْمى (سوره طه: 124) یعنی "اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے"۔
یہ وه جگہ ہو گی کہ وه خدا پر اعتراض کرے گا کہ خدایا دنیا میں میری آنکھیں تھیں اور میں دیکھتا تھا تو پھر مجھے یہاں کیوں اندھا محشور کیا ہے؟ جواب آئے گا: کَذلِکَ أَتَتْكَ آياتُنا فَنَسِيتَها وَ كَذلِكَ الْيَوْمَ تُنْسى (سوره طه: 126) یعنی "اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں اور تو نے انہیں بھلا دیا تو آج تو بھی نظر انداز کردیا جائے گا"؛
تو نے دنیا میں آنکھیں ہونے کے باوجود ہماری نشانیوں کو نظر انداز کر دیا تھا اور وه نشانیاں جو ہم نے تیرے لئے بھیجی تھیں تو نے ان سے آنکھیں بند کر لی تھیں اور انہیں نہیں دیکھا اور ہمیں بھلا دیا تھا. اب اس بے توجہی کی سزا کے طور پر اندھے محشور کئے گئے ہو اور یہاں ہم بھی تم پر توجہ نہیں کریں گے اور اپنے لطف و کرم اور نعمتوں کو تجھ سے دور رکھیں گے۔
آیت الله محمدتقی مصباح یزدی
الله کا ذکراور اسکی یاد - 15
معارف الفرقان-978