خبردار! کہیں آپ کی پسندیدہ غذا دماغ کے لیے خطرہ تو نہیں؟
https://urdu.sahartv.ir/news/society_culture-i457866-خبردار!_کہیں_آپ_کی_پسندیدہ_غذا_دماغ_کے_لیے_خطرہ_تو_نہیں
اگر آپ الٹرا پراسیس غذاؤں کو کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دماغی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
(last modified 2026-10-19T08:03:06+00:00 )
Oct ۱۹, ۲۰۲۶ ۱۲:۳۰ Asia/Tehran
  • خبردار! کہیں آپ کی پسندیدہ غذا دماغ کے لیے خطرہ تو نہیں؟

اگر آپ الٹرا پراسیس غذاؤں کو کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دماغی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

سحرنیوز/صحت: یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میک ماسٹر یونیورسٹی اور ہیملٹن ہیتھ سائنسز کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد اکثر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ایسے دماغی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو فالج کا باعث بنتا ہے۔

واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔

 

اس تحقیق میں 35 سے 69 سال کی عمر کے ایسے 9 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں امراض قلب کی تاریخ موجود نہیں تھی۔

ان افراد کے دماغی ایم آر آئی اسکینز کیے گئے۔

ان افراد کو الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال کی مقدار کے حوالے سے مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ جو افراد دن بھر میں زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ایسے افراد خود کو مکمل طور پر ٹھیک سمجھ سکتے ہیں مگر ان کے دماغ کو ایسا نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے جس سے مستقبل میں فالج اور دماغی تنزلی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر ایسے افراد میں دماغ کو نقصان پہنچنے کی علامات بھی سامنے نہیں آتیں۔

 

محققین نے یہ بھی بتایا کہ جو افراد زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذائیں کھاتے ہیں، ان میں جسمانی چربی کی شرح زیادہ ہوتی ہے جبکہ توند بھی زیادہ نکل آتی ہے۔

جسم کی اس چربی سے اندرونی ورم بڑھتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے بھی دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرنے والے افراد صحت بخش غذائیں جیسے پھلوں، سبزیاں اور دیگر کا کم استعمال کرتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ وہ مکمل طور پر الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور دماغی نقصان کے درمیان موجود تعلق کو نہیں سمجھ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم ابھی مکمل میکنزم کا تعین نہیں کرسکے، مگر ایک امکان یہ ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال اضافی جسمانی چربی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے جس سے دماغ کے لیے خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق لیکن یہ واضح ہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں صرف جسمانی یا دل نہیں بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع ہوئے۔

 

ہمیں فالو کریں:

Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok  whatsapp channe