ایران کے معروف معاصر شاعر حداد کاشانی کی تدفین
عصر حاضر کے معروف ایرانی شاعر استاد عباس حداد کاشانی کو ان کے آبائی شہر کاشان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
عصر حاضر کے معروف ایرانی شاعر استاد عباس حداد کاشانی کو ان کے آبائی شہر کاشان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
استاد عباس حداد کاشانی، کہولت سن کے باعث ہفتے کی رات انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر ترانوے برس تھی۔ استاد عباس حداد کاشانی کے جلوس جنازہ میں بڑی تعداد میں ادبا و شعرا کے علاوہ صوبے کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ وہ کاشان کی انجمن مداحان اہلبیت کے صدر بھی تھے۔ انہوں نے قصیدہ، غزل، قطعہ، رباعی اور مثنوی سمیت فارسی شاعری کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ بیت اشعار کہے ہیں۔ ان کا شمار خطہ کاشان کے کاروان شعر و ادب کے قافلہ سالاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کا منظوم ترجمہ بھی کیا، جبکہ سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کی یاد میں سیکڑوں دلسوز مرثیے تحریر کئے جو کئی جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ استاد عباس حداد کاشانی، ناصری، منشی، فیضی، مشفق کاشانی، سہراب سپہری، شرمی، خباز فراہی اور سید عبدالرحیم فاطمی جیسے معروف شعرا کے ہم عصر شمار ہوتے ہیں۔ انقلاب اسلامی سے پہلے انہیں رہبر انقلاب اسلامی کی میزبانی کا شرف بھی حاصل تھا۔