ایران میں بانجھ پن کا علاج دریافت
ایران کے ڈاکٹروں نے دنیا میں پہلی بار بانجھ پن کے حتمی علاج کا طریقہ دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
تہران کی شہید بہشتی میڈیکل یونیورسٹی کی پروفیسر لیلی نظری نے بتایا ہے کہ آیت اللہ طالقانی اسپتال کے ڈاکٹروں نے بانجھ پن کا حتمی علاج دریافت کر لیا ہے۔ ڈاکٹر لیلی نظری نے بتایا کہ شہید بہشتی میڈیکل یونیورسٹی کے آیت اللہ طالقانی اسپتال کے شعبہ آئی وی ایف اور خواتین کی مخصوص بیماریوں کے علاج کے مرکز کی تحقیقاتی ٹیم نے خواتین کے بانجھ پن کا حتمی علاج دریافت کر لیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بانجھ پن کا حتمی علاج موجود نہیں ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر لیلی نظری نے کہا کہ بعض خواتین میں حمل قرار پانے کے لئے آئی وی ایف کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بعض وجوہات کی بناپراس کام میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض خواتین میں آئی وی ایف کا عمل مسلسل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ نہیں ہو سکتیں۔
انھوں نے بتایا کہ اب تک دنیا کے کسی بھی ملک سے اس قسم کی خواتین کے حتمی علاج کی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر لیلی نظری نے بتایا کہ آیت اللہ طالقانی کے شعبہ آئی وی ایف اور بانجھ پن کے علاج کے تحقیقاتی مرکز کی ٹیم نے دنیا میں پہلی بار پی آر پی کو ڈیویلپ کرکے حمل ٹھہرنے اور آئی وی ایف میں مسلسل ناکامی کا حتمی علاج تلاش کر لیا ہے۔