آسکر کمیٹی کی ٹرمپ کے فیصلے پر نکتہ چینی
امریکی موشن فلم اکیڈمی آسکر نے بھی، سات مسلم ممالک کے شہریوں کی آمد پر پابندی سے کے صدارتی فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔
آسکر کمیٹی کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اکیڈمی فن فلم سازی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ہمارا مقصد بلاتفریق قوم و مذہب تمام سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے دنیا بھر میں فلموں کے شائقین کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہے۔بیان کے مطابق مذہب یا قومیت کی بنیاد پر آسکر ایوارڈ یافتہ ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی اور اس سال آسکر کے نامزد ایرانی فلم کے دیگر فنکاروں کی امریکہ آمد پر پابندی ہمارے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور اس سے ہمیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔آسکر کمیٹی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اصغر فرھادی نے ٹرمپ کے احکامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پہلے آسکر ایوارڈ کی تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔آسکر دو ہزار سترہ کے لیے نامزد ایرانی فلم سیلزمین کی ہیروئین ترانہ علی دوستی بھی آسکر ایوارڈ کی تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہیں۔فلم اسٹار ترانہ علی دوستی نے اپنے ٹوئٹ میں امریکی صدر کے احکامات کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے احکامات کا اطلاق آسکر تقریب پر نہ بھی ہو تب بھی وہ بطور احتجاج اس میں شرکت نہیں کریں گے۔معروف امریکی فلم ساز اور ہدایت کار مائیکل مور نے بھی اپنے ٹوئٹ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اور کروڑوں امریکی شہری اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔