پناہ گزینوں کا بحران، اقوام متحدہ کی یورپ پر نکتہ چینی
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپی ملکوں کے رویئے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعدالحسن نے کہا ہے کہ بدامنی کے شکار ملکوں سے پناہ کی تلاش میں یورپ آنے والے پناہ گزینوں کو ان ممالک میں پہنچتے ہی بدسلوکی اور تارکین وطن کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے-
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے ان سربراہوں پر بھی کڑی نکتہ چینی کی جو اپنے بیانات کے ذریعے یورپ میں تارکین وطن کے خلاف نفرت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں نے کہا کہ پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے سرحدی باڑ لگانے کا معاملہ یورپ آنے والے پناہ گزینوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ بات ہے اور یہ امر یورپ کی بے تدبیری کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ میں پناہ گزینوں کے بارے میں کئے جانے والے پروپیگنڈے کے برخلاف یہ لوگ کسی بھی طرح یورپی سماج کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آسٹریا سمیت چند یورپی ملکوں نے پناہ گزینوں کی آمد رفت کو محدود کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں ۔
مقدونیہ کے صدر جورج ایوانوف نے یورپ پر بحران سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس سلسلے میں یورپی یونین کے فیصلوں کا انتظار نہیں کرسکتے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کرائسس مینیجمنٹ کی ضرورت ہےجبکہ یورپی بیوروکریسی میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی ۔
یونان نے بھی اتوار کے روز خبر دار کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی جانب سے پناہ گزینوں کی آمد و ر فت محدود کردیئے جانے کے سبب اس کے ہاں ہزاروں پناہ گزین پھنس گئے اور مارچ تک ان کی تعداد ستر ہزار سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔
ادھر فرانس کی پولیس نے وزیر داخلہ کے اعلان کو نظرانداز کرتے ہوئے شمالی فرانس کی بندر گاہ کالے کے قریب واقع پنا ہ گزینوں کے کیمپ اکھاڑ دیئے ہیں اور ان کے خلاف تشدد سے کام لیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کابھی استعمال کیا ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ نے کہاتھا کہ پناہ گزینوں کے کیمپ طاقت کے زور پر نہیں اکھاڑے جائیں گے اور اسکولوں اور نماز کے لیے مخصوص جگہوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے فرانس کی ایک عدالت نے جنگل کے علاقے میں قائم پناہ گزیں کیمپوں کو ختم کرنے کا حکم دیاتھا جس کے بعد فرانس کی حکومت نے پناہ گزینوں سے کہا تھا کہ وہ جنوبی علاقے کو چھوڑکر دوسرے علاقوں میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں چلے جائیں۔