آستانہ مذاکرات ، ماسکو ، تہران اور انقرہ کی کوششوں کا نتیجہ : روس
روس کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات ، ماسکو، تہران اور انقرہ کی کوششوں کا نتیجہ ہیں-
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے تیئیس جنوری کو آستانہ میں ایران ، روس اور ترکی کی نگرانی میں ہونے والے شامی گروہوں کے درمیان امن مذاکرات کا وقت نزدیک آنے پر کہا ہے کہ بحران شام کے سلسلے میں ان تینوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی یکجہتی کے نتائج ، گرانقدر ہیں - روس کے نائب وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران ، روس اور ترکی شام کے سلسلے میں آستانہ میں ہونے والے اتفاق رائے کو مضبوط و پائیدار بنا سکتے ہیں - ریابکوف نے ان مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ شام کے بارے میں آستانہ مذاکرات میں حصہ لینے والے ممالک ایجنڈے کی تیاری میں مصروف ہیں - اس سے قبل روس کے ایک اورنائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانف نے بھی شام کے حالا ت پر تہران و ماسکو کے درمیان پیدا ہونے والی یکجہتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دہشت گردوں کے خلاف اچھا تعاون حاصل ہوا ہے اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف حقیقی جنگ جاری رہے گی- روس ، ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے بیس جنوری کو ماسکو میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا جس میں پوری دنیا کو داعش و جبہہ النصرہ سمیت دیگردہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں عالمی تعاون ، شام کے اقتدار اعلی اور اس کی ارضی سالمیت کے تحفظ نیز قزاقستان میں شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی دعوت دی -