امریکہ کا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ
امریکہ نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔
کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سینیٹرجان مک کین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان حقانی نیٹ ورک کی حمایت ترک نہیں کرتا تو امریکا کو بھی پاکستانی قوم کے ساتھ اپنا رویہ بدل لینا چاہیے اور انہوں نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے۔
جان میک کین نے کہا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان ہمارا ساتھ دے گا اور بالخصوص حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔
امریکی سینیٹر کی جانب سے آنے والے بیان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکا اپنے سب سے قریبی اتحادی کے ساتھ رویے کو تبدیل کر رہا ہے۔
پاکستان میں موجود ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی سینیٹر اور ان کے وفد کی کابل روانگی سے قبل اسلام آباد میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان اب کوئی روابط نہیں ہیں۔
امریکا کے علاوہ نیٹو کے سکریٹری جنرل یینس اسٹولٹین برگ نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ ایک ملک ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے جو دوسرے ملکوں میں دہشت گرد کاروائیاں کرے ۔
حال ہی میں پینٹاگن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا بیرونی عنصر پاکستان ہے۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ پاکستان میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی اعلیٰ قیادت کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔