روس کی حانب سے ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ
روس نے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ماسکو بدستور ایٹمی معاہدے کی حمایت کرتا ہے کہا کہ روس اس بین الاقوامی معاہدے کے دیگر فریقوں سے بھی درخواست کرتا ہے کہ وہ بھی اس معاہدے کی حمایت کریں۔
ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے پر جنوری دوہزار سولہ سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے لیکن امریکا بدستور اس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکا کی وعدہ خلافیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس بین الاقوامی معاہدے کو ختم نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ایٹمی معاہدے کی مخالفت کی ہے اور اس معاہدے کے دیگر فریقوں کے برخلاف انہوں نے معاہدے کو وحشتناک بتاتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی بات کی ہے۔
ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کا مخاصمانہ رویّہ ایک ایسے وقت جاری ہے جب ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے اپنی رپورٹوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ایٹمی معاہدے کی پاسداری کی ہے۔
یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی حال ہی میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدہ پوری عالمی برادری سےتعلق رکھتا ہے کہا کہ یہ کوئی دوطرفہ معاہدہ نہیں ہے جس کو تبدیل یا ختم کیا جاسکے گا۔