ٹرمپ کی نفسیاتی کییفت پر ماہرین نفسیات کا مظاہرہ
امریکی ماہرین نفسیات کی ایک بڑی تعداد نے نیویارک میں مظاہرہ کرکے صدر ٹرمپ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک غیرسرکاری تنظیم کی دعوت پر ہونے والے اس مظاہرے میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک حدتک اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگے ہیں اس لئے اب انہیں عہدہ صدارت سے استعفاد دے دینا چاہئے۔
کورنل یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ہیری سیگل نے مظاہرے کےدوران کہا کہ ٹرمپ کے اندر احساس ناتوانی اور بے وقعتی کی وجہ سے جو خوف پایا جاتاہے وہ ہر طرح کی تنقیدوں کےمقابلے میں ان کی مزاحمت کے طریقہ کار میں دیکھا جاسکتاہے۔
مظاہرے میں شریک ایک اور ماہر نفسیات میشل گولنڈ نے بھی نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپرواہ ٹرمپ کا تو کچھ بھی نہیں بگڑے گا لیکن ان کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ڈیوٹی ٹو وارن پیک نامی غیر سرکاری تنظیم،جس میں ماہرین نفسیات شامل ہیں ٹرمپ کی نفسیاتی بیماری سے امریکی عوام کو باخبر کرنے کے لئے پورے امریکا میں ایسے ہی مظاہرے کا اہتمام کررہی ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے میں شریک امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی نفسیاتی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ وہ ایٹمی جنگ بھی چھیڑ سکتے ہیں۔