ایران روس اور ترکی کے اتحاد پر زور
روس کے وزیرخارجہ نے شام کے مسائل کے حل میں ایران، روس اور ترکی کے ٹرائیکا کی کامیابی کے پیش نظر عالمی مسائل اور تنازعے کے حل میں ان تین ملکوں کی تجاویز پیش کی ہیں۔
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے رشین فیڈریشن کونسل یا روسی سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، روس اور ترکی کے مابین اقتصادی، انرجی اور مالی شعبوں میں اشتراکات پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ممالک دنیا کی موجودہ کرنسی اور مالی نظام سے جسے امریکا کنٹرول کرتا ہے، وابستہ نہیں رہنا چاہتے-
روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ دہشت گردوں کی سرکوبی اور آستانہ مذاکرات کے نتیجے میں شام میں کشیدگی سے پاک علاقوں کے قیام نے شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لئے بعد والے مرحلے کا راستہ ہموار کر دیا ہے-
انہوں نے کہا کہ ایران، روس اور ترکی کی مشترکہ خواہش کی وجہ سے آستانہ کے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں پہلی بار سوچی میں تین ملکوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں شام کے بارے میں قومی مذاکرات کی کانگریس کے انعقاد کی تجویز پیش کی گئی-