شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، وائٹ ہاوس
وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا ہے کہ امریکہ نے تاحال شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات چیت اور شام کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے پریس کانفرنس کے دوران دعوی کیا کہ امریکہ موصولہ شواہد کی روشنی میں روس اور شام کے صدور کو دوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ روسیوں نے بقول ان کے ثابت کر دیا ہے کہ کسی حد تک وہ بھی اس حملے کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ اس سے پہلے انہوں نے ضمانت دی تھی شام کی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر امریکہ کے اس دعوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہ شام کے خلاف تمام آپشن میز پر ہیں، کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس حملے کے لیے نظام الاوقات کا تعین نہیں کیا ہے۔
امریکی صدر نے سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ جیش الاسلام کے اس گھناؤنے دعوے کے بعد کہ حکومت شام نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی گیس کا استعمال کیا ہے، اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کے دوران شام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
برطانیہ اور فرانس سمیت امریکہ کے بعض اتحادی ملکوں نے بھی ٹھوس ثبوت و شواہد کے بغیر شام کی حکومت پر کیمیائی حملوں کے الزامات کا شور شرابہ مچانا شروع کر دیا جسے شام کی حکومت نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔
دوسری جانب روسی صدر کے ترجمان نے ٹوئیٹر کے ذریعے روس کے ساتھ مذاکرات کی امریکی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ خطرناک صورت حال اور اس میں شدت کی تمامتر ذمہ داری امریکی صدر پر عائد ہوتی ہے۔
دی متری پسکوف کا کہنا تھا کہ ہم نئی سوچ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صورتحال کو مزید خراب کرنے والے اقدامات اور جوابی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے ایک ٹوئیٹ میں روس پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی تھی اور روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار اسد کا حامی روس تیار رہے ہمارے جدید اور اسمارٹ میزائل آرہے ہیں۔
اس کے بعد اپنے ایک اور ٹوئیٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ امریکہ اور روس کے تعلقات کسی بھی دور سے زیاد بدتر شکل اختیار کریں، لہذا تمام ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
درایں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترش نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ملکوں کے سفیروں سے ٹیلی فون پر گفتگو اور شام کی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین کے سفیروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے شام کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ساری توجہ شامی عوام کی جانوں کے تحفظ اور ان کے مسائل و مشکلات کے حل پر مرکوز ہونا چاہئے۔