امریکی صدر اور ایوان نمائندگان میں ٹھنی
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i345350-امریکی_صدر_اور_ایوان_نمائندگان_میں_ٹھنی
وائٹ ہاوس اور کانگریس کے اکثریتی دھڑے کے درمیان کشمکش کے درمیان امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی نے ملک کے سابق اٹارنی جنرل ڈینیئل گولڈمین کو صدر کے خلاف تحقیقات کا نگراں مقرر کر دیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۷, ۲۰۱۹ ۱۰:۳۷ Asia/Tehran
  • امریکی صدر اور ایوان نمائندگان میں ٹھنی

وائٹ ہاوس اور کانگریس کے اکثریتی دھڑے کے درمیان کشمکش کے درمیان امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی نے ملک کے سابق اٹارنی جنرل ڈینیئل گولڈمین کو صدر کے خلاف تحقیقات کا نگراں مقرر کر دیا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی اکثریت نے مینہیٹن کے سابق اٹارنی ڈینئل گولڈ مین کو امریکی صدر اور ان کے قریبی رشتہ داروں سے متعلق تحقیقات کا  نگراں مقرر کیا ہے۔
 ایوان نمائندگان کی عدالتی کمیٹی نے ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے خلاف پیر سے نئی تحقیقات شروع کی ہیں اور ٹرمپ جونیئر، ایرک ٹرمپ اور  ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔
 ٹرمپ کی جانب سے اپنے قریبی رشتہ داروں کی غیرقانونی حمایت کے معاملے پر بھی ڈیموکریٹ ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
 اس سے پہلے ایوان نمائندگان کے دو ارکان ٹیڈ لیو اور ڈون بائر نے وزیر انصاف ولیئم بار کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے سابق چیف آف اسٹاف جان کلے کو حکم دیا تھا کہ وہ انٹیلی جینس اداروں کی تشویش اور قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات کے باوجود ان کے داماد جیرڈ کوشنر کو سیکورٹی کلیئرنس جاری کر دیں۔
 خط کہا گیا تھا کہ جیئرڈ کوشنر نے متعلقہ فارم میں غیر ملکوں اور خاص طور سے روسیوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور رابطوں کو جان بوجھ کر چھپایا تھا۔
 ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں دعوی کیا ہے کہ روسیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ انہوں نے نہیں ڈیموکریٹ اور دھوکہ باز ہلیری کلنٹن نے کیا تھا۔

انہوں نے ایوان نمائندگان کی عدالتی اور انٹیلی جینس کمیٹیوں کے سربراہوں پر غیر منطقی رویہ  اپنانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
نومبر دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والے ایوان نمائندگان کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ کی کامیابی کے بعد سے ٹرمپ اور ایوان نمائندگان میں کشمکش تیز ہو گئی ہے۔
 ادھر دو ہزار سولہ کے صدارتی انتخآبات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔