ٹرمپ کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لئے ڈیموکریٹس کی کوشش
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i360054-ٹرمپ_کے_غیر_قانونی_اقدامات_کو_روکنے_کے_لئے_ڈیموکریٹس_کی_کوشش
امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اراکین نے صدر ٹرمپ کے غیر قانونی اور دہشتگردانہ اقدامات کو لگام دینے کے لئے ایک بل تیار کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۰۴, ۲۰۲۰ ۱۰:۵۴ Asia/Tehran
  • ٹرمپ کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لئے ڈیموکریٹس کی کوشش

امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اراکین نے صدر ٹرمپ کے غیر قانونی اور دہشتگردانہ اقدامات کو لگام دینے کے لئے ایک بل تیار کیا ہے۔

امریکہ میں دوہزار بیس کے ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے  کہ انہوں نے ایران کےخلاف ممکنہ غیر قانونی جنگ کو روکنے کے لئے ایوان نمائندگان میں ریاست کیلیفورنیا سے رکن ’’روخانا‘‘ کے ساتھ مل کر ایک بل پیش کیا ہے۔یہ بل بغداد میں امریکی دہشتگردوں کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد پیش کیا گیا ہے۔ڈیموکریٹ سینیٹر کریس مورفی نے امریکی صدر ٹرمپ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس کے حکام ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ہم ایران اور ان کے حمایت یافتہ گروہوں کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف وہ ایک ہوائی حملے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ہے  کہ انہوں نے ایران کے خلاف ہونے والی ممکنہ جنگ کی روک تھام کے لئے ایک قرارداد تیار کی ہے۔امریکی ایوان  نمائندگان کے ایک اور سینیئر رکن ایلی اوٹ اینجل نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے پر مبنی امریکی صدر کے حالیہ اقدام پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا یہ اقدام کسی خاص اسٹریٹیجی کے بغیر انجام پایا ہے۔دوہزار بیس کے صدارتی انتخابات کی ڈیموکریٹ امیدوار ٹولسی گابارڈ نے بھی امریکی صدر کے حالیہ دہشتگردانہ اقدام کو ایک جنگی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا۔امریکی روزنامہ  لاس آینجلس ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی ٹیم کو بالکل اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ قاسم سلیمانی کو قتل کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اجلاس میں موجود افراد کی توقع کے بر خلاف متعدد آپشنوں کے درمیان سے قاسم سلیمانی کے قتل کو چنا اور ٹرمپ کے کچھ انتہا پسند میشروں نے بھی ان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فوجیوں اور ملازموں کی جفاظت     کی خاطر ایک پیشگی اقدام کے طور پر، سپاہ پاسداران کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا فیصلہ کیا گیا۔امریکی سینیٹ میں ریبپلیکن اکثریت کے رہنما مِچ میک کانِل نے سینیٹ کی ایک نشست میں قاسم سلیمانی کو امریکی سلامتی اور مفادات کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیاتھا -امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے دعوی  کیا کہ وائٹ ہاوس اس نتیجے پر پہونچ چکا تھا کہ قاسم سلیمانی کو زندہ چھوڑنے کا خطرہ ان کے قتل کے خطرات سے کہیں زیادہ ہے۔اب سوال یہ ہے  کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے منصوبے کی اطلاع صیہونی حکومت اور بعض عرب ممالک کو تھی یا نہیں، اِس پر ایران کے امور میں امریکی انتظامیہ کے خصوصی نمائندے برایان ہوک نے چپی سادھی ہوئی ہے۔