تہران میں ہندوستان کی وزیر خارجہ کے صلاح و مشورے
ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام کے ساتھ ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
انھوں نے اپنے دورہ تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صدر مملکت نے کہا کہ جنوب مشرقی ایران میں چابہار بندرگاہ کی توسیع سے وسطی ایشیاء، قفقاز اور افغانستان سے ہندوستان کا مستحکم بندھن قائم ہو جائے گا اور یہ عظیم منصوبہ، تہران اور نئی دہلی کے درمیان نیز پورے علاقے میں مشترکہ اور کثیر جہتی تعاون میں نئے باب کا آغاز ثابت ہو گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے دو طرفہ اور چند جانبہ شعبوں میں ایران اور ہندوستان کے تعاون کو پورے علاقے کے فائدے میں قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ علاقے کے مسائل و مشکلات خاص طور سے دہشت گردی کے بارے میں دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل مزید فروغ پائے گا۔ اس ملاقات میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی کہا کہ نئی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت اور توانائی کے ضرورت مند ملک کی حیثیت سے ہندوستان، فریقین کی فتح کے ساتھ ہم خیالی پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور ان تعلقات کی سطح کو تجارتی تعاون کی سطح سے بھی زیادہ اوپر لے جائے جانے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی ملاقات میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں محمد جواد ظریف نے ایران اور ہندوستان کے درمیان دفاعی اور سیکورٹی تعاون کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ تعاون، علاقے میں قیام امن کے لئے مفید ہے۔ انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران اور ہندوستان کے مابین بینکنگ، تجارت، توانائی اور مشترکہ سرمایہ کاری نیز چابہار بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے خوشگوار تعاون کے مواقع ہیں۔
اس ملاقات میں ہندوستان کی وزیر خارجہ نے بھی دفاعی، سیکورٹی، سیاسی اور اقتصادی، خاص طور سے تیل و گیس کے شعبوں میں ایران کے ساتھ تعاون اور صلاح و مشورے کے عمل کو فروغ دینے کے لئے اپنے ملک کی آمادگی کا اعلان کیا۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ نے تہران میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹیجک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی سے بھی ملاقات میں ایران کی جوہری کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کے زیادہ سے زیادہ فروغ کے لئے اپنے ملک کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام، مختلف شعبوں خاص طور سے سیاسی و اقتصادی شعبوں میں تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔
اس ملاقات میں ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے انقلاب کے آغاز سے ہی ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں خاص طور سے ہندوستان کے ساتھ تعاون پر توجہ رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان جامع تعلقات نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ افغانستان کے لئے بھی خاص طور سے ٹرانزیٹ کے شعبے میں قابل ذکر اہمیت کے حامل ہیں۔ تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹیجک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ثقافتی تعلقات کے شعبے میں ایران اور ہندوستان، وسیع مشترکہ اقدار کے حامل ہیں جو علاقے کے تمام ملکوں کے تعلقات کی بہتری میں موثر واقع ہو سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے دو طرفہ تعلقات کی توسیع کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اپنے ہم منصب محمد جواد ظریف کی دعوت پر ہفتے کے روز تہران کا دورہ کیا۔