-
ہندوستان کی لال پری اصفہان میں
Sep ۰۹, ۲۰۲۳ ۱۷:۵۴ہندوستانی سیاحوں کی گاڑی لال پری ایران میں اپنی سیاحت جاری رکھتے ہوئے شہر اصفہان پہنچ گئی۔
-
ایران اور پاکستان کے درمیان ٹورازم، آرکیالوجی اور میوزیم کے میدانوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق (ویڈیو)
Aug ۰۸, ۲۰۲۳ ۰۹:۵۹لاھور میں ایران پاکستان کے درمیان باہمی ٹورازم پروموٹ کرنے کے موضوع پر ہونے والی ایک تقریب میں دونوں ممالک نے سیاحت، آرکیالوجی اور میوزیم کے میدانوں میں ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
-
ایران کے وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر
Aug ۰۲, ۲۰۲۳ ۱۴:۱۷ایران کے وزیر خارجہ ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کے ہمراہ پاکستان کے اعلیٰ حکام سے بات چیت اور تبادلہ خیال کے لیے اسلام آباد کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں۔
-
ایران قبائلی سیاحت میں دنیا میں تیسرے نمبر پر
Jun ۱۷, ۲۰۲۳ ۱۴:۲۴ایران کی ثقافتی میراث، سیاحت اور دستکاری کی وزارت کے داخلی سیاحت کے شعبے کے انچارج سیدمصطفی فاطمی نے کہا ہے کہ ایران قبائلی اور خانہ بدوش سیاحت کے ٹور کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
-
کشمیر میں ڈھائی سو سیاحوں کو خوفناک حادثے سے بچا لینے کا اعلان
Jun ۰۹, ۲۰۲۳ ۱۳:۵۳ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں نے تقریبا ڈھائی سو سیاحوں کو خوفناک حادثے سے بچا لینے کا اعلان کیا ہے۔
-
ھمدان میں غارعلی صدر نوروز کے مسافروں کی توجہ کا مرکز
Mar ۲۹, ۲۰۲۳ ۱۵:۵۴علی صدر غار، جو ہمدان شہر کے قریب ایک گاؤں میں واقع ہے، دنیا کی سب سے بڑی بحری غار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ غار، صوبہ ہمدان کے حیرت انگیز اور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ ہر سال نوروز کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد اس مکان کا مشاہدہ کرتا ہے۔
-
ارومیہ جھیل، صوبہ آذربائیجان کا نگینہ
Mar ۲۹, ۲۰۲۳ ۱۲:۳۴نوروز کے موقع پر ایران کے شمال مغربی علاقوں میں واقع ارومیہ جھیل بھی سیاحوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
-
جزیرہ کیش، غیرملکی سیاحوں کے لئے بھی دلچسپی کا مرکز
Mar ۱۵, ۲۰۲۳ ۱۲:۲۲ایران کے کیش جزیرے میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہو رہا ہے۔
-
ڈاکومینٹری پروگرام - کیش
Feb ۲۵, ۲۰۲۳ ۱۷:۰۶نشرہونے کی تاریخ 02/25/ 2023
-
2 لاکھ سال پرانی غار، "دربند رشی"۔ (ویڈیو)
Jan ۱۸, ۲۰۲۳ ۰۶:۱۰ایران کے صوبے گیلان کے شہر رودبار کے قریب ایک غار واقع ہے جس کی عمر دو سے ڈھائی لاکھ برس بتائی جاتی ہے۔ رشی نام کے ایک قریے کے جنوب میں واقع "دربند رشی" نامی یہ غار پہلی بار اٹھارہ برس قبل آثار قدیمہ کے ایک ایرانی ماہر ڈاکٹر جہانی کے ذریعے دریافت کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس غار کو اب ایک نجی سیاحتی کمپنی کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اب اس دلچسپ اور حیرت انگیز غار کو ایک ریسٹورینٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے اس غار کو عصر حجر کے شکارچی استعمال کیا کرتے تھے۔