Oct ۱۹, ۲۰۱۵ ۱۶:۱۰ Asia/Tehran
  • ایران کے ساتھ خطے کے عرب ممالک کے مذاکرات کا خیر مقدم

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایران کے ساتھ علاقائی ممالک کے مذاکرات پر مبنی کویت کے موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کے ساتھ علاقائی ممالک کے مذاکرات کی اہمیت پر مبنی کویت کے نائب وزیر خارجہ خالد سلیمان الجاراللہ کے بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کویت کے موقف کو "تعمیری اور قابل احترام" قرار دیا۔ خالد سلیمان الجاراللہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران خطے کی کٹھن صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مذاکرات کے لئے ایران کی دی جانے والی دعوت کو خلوص پر مبنی دعوت قرار دیا اور کہا کہ خطے کے مسائل  کا حل ایران کے ساتھ مذاکرات میں ہے نہ کہ اس کا مقابلہ کرنے میں۔ کویت کی حکومت اس سے قبل بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمیشہ قریبی اور دوستانہ مواقف اختیار کئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایٹمی مذاکرات کے اختتام کے بعد علاقائی ممالک میں سے سب سے پہلے کویت کا ہی دورہ کیا تھا۔ ایران اور ان ہمسایہ ممالک کے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں جو حالیہ برسوں میں مختلف سیاسی تبدیلیوں سے دوچار رہے ہیں۔ مشرق وسطی کے ممالک کی سیاسی صورتحال اور تشدد آمیز جھڑپوں کی وجہ سے ممالک کے باہمی تعلقات میں تبدیلیاں آئیں اور نئی صف بندیاں وجود میں آئیں اور خطے کے بعض ممالک ایک دوسرے کے مقابلے میں آگئے۔ اس کے علاوہ خطے سے باہر کے ممالک اور صیہونی حکومت خطے میں ایرانو فوبیا کی ترویج کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جہاں ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی اور مقابلے کا ماحول پیدا ہوا وہیں اسلحے کی دوڑ بھی شروع ہوگئی یہاں تک کہ ایران مخالف پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام جاری رہنے پر مبنی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی سمجھوتے پر بھی خطے کے بعض ممالک نے تنقید کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سات عرب ممالک کے صحافتی وفد کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ یہ دیکھ کر مجھے افسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل نے ایٹمی معاملے کے بارے میں ایک ہی موقف اختیار کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا تاکید کی ہے کہ وہ علاقائی ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی جانتا ہے اور وہ اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ علاقائی ممالک کو خود اس خطے میں امن و استحکام قائم کرنا چاہئے۔ ایران نے تمام فوجی مشقوں، اسلحے کی نمائشوں اور فوجی پروگراموں کے دوران اس بات کا اعلان کیا ہے کہ خلیج فارس کے اسٹریٹیجک علاقے میں قیام امن اور استحکام کے سوا اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ مشرق وسطی کے حالیہ واقعات نیز اس خطے کے حالات میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد تہران نے بھی ہمیشہ غلط فہمیوں کو دور کرنے، افہام و تفہیم اور علاقائی سطح پر باہمی تعاون میں اضافے کے مقصد سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات پر اپنی آمادگی کا ہمیشہ اعلان کیا ہے۔
عمان، کویت اور عراق سمیت اکثر ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات بہت پرامن اور دوستانہ رہے ہیں اور یہ تعلقات بلند ترین سطح پر باہمی احترام کی بنیاد استوار ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران تشدد اور دہشت گردی پھیلانے پر مبنی بعض ممالک کی غلط پالیسی کی وجہ سے تہران ریاض سمیت بعض ممالک کے دو طرفہ تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تہران میں جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں علاقائی معاملات میں ایران کا کردار ختم کرنے پر مبنی سعودی عرب کی کوشش کو جھڑپوں کو ہوا دینے اور خونریزی کا سبب قرار دیا تھا اور تاکید کی تھی کہ ہم جہاں سعودی عرب کے کردار کو ختم کرنے کے درپے نہیں ہیں وہاں ہم سعودی عرب کو ایران کا کردار ختم کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ اس کے باوجود تہران نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل اور شکوک و شبہات کو دور کرنے پر تاکید کی ہے۔ اور وہ اپنی علاقائی اسٹریٹیجک پالیسی میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ اسی حکمت عملی کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے عرب میڈیا سے گفتگو کے دوران ایران اور عربوں کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان بہت کم مشترکات پائے جاتے ہیں اس کے باوجود اگر ایران یورپی ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات انجام دے سکتا ہے تو یقینا ہم اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ بھی نتیجہ خیز مذاکرات کر سکتے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اب اس بات کے ادراک کا وقت آگیا ہے کہ ہم کو مل کر مشترکہ فوائد حاصل کرنا چاہئیں۔