یمن پر سعودی عرب کے حملے جاری
یمن کے خلاف قائم ہونے والے سعودی عرب کے جارح اتحاد کے ترجمان نے ایسی حالت میں جنگ بندی ختم کرنے کی خبر دی ہے کہ جب یمن کے بے گناہ شہریوں پر جارحین کے فضائی حملے کسی وقفے کے بغیر جاری ہیں۔
سعودی عرب کے وزیر جنگ کے مشیر اور سعودی اتحاد کے ترجمان احمد عسیری نے بزعم خویش یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ اور اس ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔ احمد عسیری نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باضابطہ خاتمے کے بعد یمن میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔
سعودی عرب کے وزیر جنگ کے مشیر نے اپنے ملک کی سرزمین پر ایک میزائل داغے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جنگ بندی کا جاری رہنا سودمند نہیں ہے اور جنگ بندی کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ ہے۔
سعودی عرب نے چھبیس مارچ سنہ دو ہزار پندرہ سے یمن کے مختلف علاقوں خصوصا رہائشی علاقوں پر وسیع حملوں کا آغاز کر رکھا ہے اور دس ماہ پر محیط اس مدت کے دوران چند مرتبہ جنگ بندی بھی کی لیکن جنگ بندی کے پہلے ہی دن خود اس کی خلاف ورزی کر ڈالی۔
یمن پر حملے کرنے کے مقصد سے ڈیسائیسیو سٹورم کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی کوئی ایسی کارروائی نہیں تھی جو آدھے راستے میں جنگ بندی کے ساتھ ختم ہو جاتی بلکہ یہ یمن کے عوام کی انقلابی تحریک انصارالہہ کو میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے امریکی اور سعودی سازش ہے۔ سعودی اتحاد یمن پر حملے کے ذریعے اس ملک میں اپنی پٹھو حکومت قائم کرنے کے درپے ہے لیکن یمن کے عوام کی انقلابی تحریک انصارالہہ کی استقامت کے باعث اس اتحاد کو ابھی تک اپنا یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملوں کے دوران ڈیسائیسیو سٹورم میں تبدیلیاں لانے اور رائے عامہ کی خوشنودی حاصل کرنے سے مقصد سے عالمی برادری کی اپیل پر چند مرتبہ یمن میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی جنگ بندی اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی اور سعودی عرب نے جنگ بندی سے قبل، اس کے دوران اور اس کے بعد بھی یمن کے عوام کو اپنی جنگ پسندی کی بھینٹ چڑھایا۔
یمن کے خلاف سعودی جارحین کے اتحاد کی جنگ پسندی کا نتیجہ صرف قتل عام، انسانی المئے اور نتیجتا مختلف محاذوں پر سعودی عرب کی شکست کی صورت میں ہی برآمد ہوا ہے۔ یمن کی عوامی تحریک انصارالہد نے اپنے انقلاب کے تحفظ کے مقصد سے اپنے محدود عسکری وسائل اور خود اعتمادی کا سہارا لیتے ہوئے سعودی عرب پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔ سعودی عرب کی فوجی چھاؤنیوں کا نشانہ بنایا جانا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ یمن کا عوامی انقلاب ناقابل شکست ہے۔
یمن کی عوامی استقامت کے مقابلے میں سعودی عرب کی بوکھلاہٹ کے سبب یمن میں فوجی اور سیاسی آپشن کا استعمال آل سعود کو بہت مہنگا پڑا ہے۔ یمن کے عوام کے قتل کی بناء پر سعودی عرب پر ہونے والی تنقید میں پیدا شدہ شدت نے آل سعود کو سیاسی اور انسانی حقوق کے اعتبار سے مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔
آل سعود اپنی سیاسی اور فوجی مشکلات کو حل کرنے کے لئے واضح غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے جن کا نتیجہ سعودی حکومت کے حق میں نہیں ہوتا ہے۔ سعودی عرب پر ڈالے جانے والے دباؤ کے دوران اس ملک کے عظیم مجاہد اور انقلابی عالم دین آیت الہٹ نمر باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کے بعد سعودی عرب، یمن، شام اور بحرین کے حالات آل سعود کے مفاد میں نہیں ہوں گے اور آل سعود حکومت کو ہی اپنے ظالمانہ اقدامات کا نقصان پہنچے گا۔