اھل قم کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات
رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ دشمن کا بنیادی ھدف اسلامی انقلاب کو نابود کرنا ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے آج سنیچر کو شہر قم کے ہزاروں شہریوں سے ملاقات میں انیس سو اٹہتر میں اھل قم کے قیام کو سراہتے ہوئے انقلاب کی بقا کے علل و اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید فرمائی کہ میدان میں ایرانی قوم کی آگاہانہ موجودگی سے انقلاب کی بقا، قوم کو چین وسکون اور دشمنوں کی سازشوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ اسلامی انقلاب جو انیس سو انہتر میں سامراجی طاقتوں سے وابستہ ڈکٹیٹر شیپ پر کامیاب ہوا تھا اسکی بقا کا راز اس کی ہمہ گیر خود مختاری میں مضمر ہے۔ اس کے علاوہ حساس تاریخی موقعوں پر اسلامی انقلاب کےاصول و اھداف و مقاصد پر قوم کے قائم رہنے اور انہیں زندہ رکھنا بھی اسلامی انقلاب کی بقا کا سبب ہے۔ اور یہی بقا اسلامی انقلاب کو دنیا کے دیگر انقلابات سے ممتاز کرتی ہے۔
اسلامی انقلاب کے اھداف و مقاصد کی جامعیت اس بات کا سبب بنی ہے کہ دشمن اسلامی انقلاب کی بقا کے اسباب و عوامل کو نشانہ بنائیں۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے اور بعد کے واقعات اسکی بقا کے عوامل کے حامل تھے۔ انیس سو اٹہتر کے خونیں قیام کے دوران اھل قم نے اپنی بصیرت و شجاعت کا لوہا منوالیا اور یہی قیام اسلامی انقلاب کی کامیابی پر منتج ہوا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی ایرانی قوم کا دنیا پر حکفرما تسلط پسند نظام کے مقابل ڈٹا رہنا بھی اسلامی انقلاب کی بقا کا اہم سبب ہے اور اس سے اسلامی انقلاب کو استحکام ملا ہے۔ ایرانی قوم کے دشمنوں نے اسلامی انقلاب کی شکست یا اس کو مکمل طرح سے تبدیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد دشمنوں کی تمام سازشیں منجملہ عراق کی بعثی حکومت کی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، سیاسی اور انقلابی شخصیتوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی دباؤ نیز اقتصادی پابندیاں اسلامی انقلاب کو تباہ کرنے کے لئے ہی تھیں۔
یہ وسیع پروپگینڈے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت جمہوری نہیں ہے اور عوام کی انتخابات میں شرکت نمائشی ہے دشمنوں کے دیگر حربے تھے تا کہ اصل انقلاب اور اسلامی نظام کو نشانہ بنائیں اور انتخابات پر سوالیہ نشان لگادیں۔ ایران میں دوہزار نو کے صدارتی انتخابات میں امریکہ کی مداخلت اور رنگین انقلاب لانے اور بغاوت کی کوششیں حالیہ برسوں میں دشمنوں کی جملہ سازشیں تھیں جن سے انہوں نے اسلامی انقلاب کو نابود کرنے کی کوشش کی تھی لیکن موقع پر عوام کا میدان میں آنا اور ان کی بیداری سے یہ سازشیں بھی ناکام ہوگئیں۔
انتخابات نے ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے اور عوام نے ہر الیکشن میں بھرپور شرکت کرکے اسلامی نظام کی بقا کی ضمانت دی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی کی تعبیر میں عوام کا احساس ذمہ داری جو ان کے انتخابات میں شرکت میں جلوہ گر ہوتا ہے اور دشمن کو ناکام بنادیتا ہے وہ بھی اسلامی انقلاب کی بقا کا ایک سبب ہے۔ عوام کا احساس ذمہ داری اور انتخابات میں شرکت کرنا اس قدر اسلامی نظام کو استحکام بخشتا ہے کہ رہبرانقلاب اسلامی نے عوام کو انتخابات میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے تاکید فرمائی ہے کہ جو لوگ رہبر اور اسلامی نظام کو قبول بھی نہیں کرتے انہیں بھی ووٹنگ میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ انتخابات ایرانی قوم، ایران اور اسلامی جمہوری نظام سے متعلق ہیں۔ انتخابات میں ایرانی عوام کے تمام طبقوں کی شرکت اسلامی نظام کی پائداری اور تقویت کا سبب ہے اس سے مکمل طرح سے امن و امان قائم ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ملت ایران کے اعتبار میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے دشمنوں کی نگاہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عظمت کو رعب ودبدبہ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔