ہندوستان: ججوں کی تقرری میں بے جا سرکاری مداخلت کا الزام
اڈیشہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرلی دھر نے ملک میں عدلیہ کی آزادی پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 12 برس سےعدالتوں میں ججوں کی تقرری میں ’’عاملہ(مرکزی حکومت) کی بلا جواز مداخلت‘‘ ہورہی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اڈیشہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرلی دھر نے ہائی کورٹوں میں بطور جج تقرری کیلئے’’غیر واضح معیار‘‘ اور تقرری کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ میں ججوں کی تقرری کے موجودہ ’’کالیجیم سسٹم‘‘ کی صلاحیت سے متعلق نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
جسٹس (سبکدوش) مرلی دھر نے ایک گفتگو میں کہا کہ ’’ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار زیادہ تفصیلی ہے۔ اس میں عدلیہ اور عاملہ دونوں کا رول ہوتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’گزشتہ 12 برس کے دوران تقرری کے عمل میں عاملہ (حکومت) کی بلا جواز مداخلت دیکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی تقرری کا معیار بھی غیرواضح ہے جبکہ شفافیت کی کمی اور مجموعی طور پر غیر مؤثر نظام نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ‘‘
مرلی دھر نے، جنہوں نے اڈیشہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ سے سبکدویش کے بعد دوبارہ وکالت کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور اپنی ایمانداری کی وجہ سے اس وقت حقوق انسانی کیلئے اقوام متحدہ کے کمشنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، ملک میں ججوں کی تقرری کے نظام میں کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ’’ججوں کی سبکدوشی کی تاریخ پہلے سے طے ہوتی ہے پھر بھی کولیجیم نظام ان کا متبادل بروقت تلاش نہیں کرپاتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ صرف ججوں کی مطلوبہ تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اگر تقرری کے عمل کو مؤثر نہیں بنایا گیا تو عدلیہ میں خالی آسامیوں کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel