عراق میں اسلامی ممالک کی بین الپارلیمانی کانفرنس
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i207678-عراق_میں_اسلامی_ممالک_کی_بین_الپارلیمانی_کانفرنس
"انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب متحد" کے زیرعنوان، اسلامی ممالک کی گیارہویں بین الپارلیمانی کانفرنس عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہو رہی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۶ Asia/Tehran
  • عراق میں اسلامی ممالک کی بین الپارلیمانی کانفرنس

"انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب متحد" کے زیرعنوان، اسلامی ممالک کی گیارہویں بین الپارلیمانی کانفرنس عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہو رہی ہے-

اس پانچ روزہ کانفرنس میں تقریبا چالیس اسلامی ممالک کے نمائندے، اسلامی ممالک کے موجودہ مسائل کے حل بالخصوص دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اپنے نظریات پیش کریں گے-

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے بدھ کو اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق تمام ممالک کے تعاون سے دہشت گردی سمیت تمام موجودہ بحرانوں سے باہر نکلنے کے لئے ایک وسیع البنیاد تاریخی معاہدہ کرنا چاہتا ہے-

اسلامی ممالک کی گیارہویں بین الپارلیمانی کانفرنس کے سربراہ نے اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ آج کل اسلامی ممالک میں اسلام کے نام پر سب سے زیادہ دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے کہا کہ عالم اسلام نہایت خطرناک حالات میں مبتلا ہے اور عراق سے لے کر لیبیا ، یمن اور شام سب کے سب دہشت گردی میں الجھے ہوئے ہیں-

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ کاظم جلالی نے کہ جو اس کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں ، اس موقع پر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے کچھ تجاویز دی ہیں جن میں سے ایک، بعض ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی روش سے دست بردار ہونا ہے-

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی اتحاد کے ناکارہ ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک جنھوں نے دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے، انھیں متحد ہو جانا چاہئے اور اپنے پاس موجود وسائل سے اس خطرے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے- اسلامی ممالک کی بین الپارلیمانی کانفرنس ، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کے نعرے کے ساتھ عراق میں ایسے عالم میں منعقد ہوئی ہے کہ مشرق وسطی بالخصوص عراق ، شام اور یمن ایک عرصے سے داعش ، القاعدہ اور النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا اڈہ بنے ہوئے ہیں-

بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق علاقے کے ممالک میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد سے شام، عراق اور یمن کے تین لاکھ شہری دہشت گردوں کے علاقائی اور عالمی حامیوں کی سازشوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ان ملکوں کو کی بنیادی تنصیبات دہشت گردی سے اب تک دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے-

اگرچہ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لئے ترقیاتی منصوبے تیار کرنا ، بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنا اور اسلامی ممالک میں مقیم اقلیتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ضروری ہے لیکن سعودی عرب سمیت علاقے کے بعض عرب ممالک کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت نے اس دور میں دہشت گردی کے پھلنے پھولنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے-

اسی بنا پر بغداد میں اسلامی ممالک کی پارلیمانوں کے نمائندوں کا اکٹھاہونا ایک غنیمت موقع ہے تاکہ اس طرح دہشت گرد گروہوں کے علاقائی حامیوں کے اقدامات کاراز فاش ہونے کے ساتھ ہی ان ممالک پر ان کی توسیع پسندانہ اور اسلام دشمن پالیسیوں کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھے-