چین کے صدر تہران کے اہم دورے پر
چین کے صدر شی جین پینگ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کے لیے تہران پہنچے ہیں۔
چین کے صدر نے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ ایران کے ساتھ دو طرفہ تعاون کی سطح کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جامع، طویل مدت اور پائیدار تعلقات قائم کرنا، دونوں ملکوں کے تعلقات کے نئے باب کا اصلی ہدف و مقصد ہے۔
چین کے صدر کے ہمراہ تین نائب وزرائے اعظم، چھے وزیر اور تاجروں اور صحافیوں پر مشتمل ایک بڑا وفد بھی تہران آیا ہے۔
شی جین پینگ ایک ایسے وقت میں تہران آئے ہیں کہ جب چودہ سال قبل چین کے اس وقت کے صدر جیانگ زمین نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں بلکہ گزشتہ برسوں کے دوران چین ایران کے ایک اہم اور اصلی ترین تجارتی و اقتصادی پارٹنر میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ایران کے خلاف مغرب کی سخت پابندیوں اور بہت سے ممالک کی جانب سے ایران مخالف پابندیوں کی پیروی کرنے کے باوجود چین نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس نے ایران میں غیرملکی سرمایہ کاروں اور بڑی کمپنیوں کی خالی جگہ کو پر کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اصلی حریفوں کے جانے کے بعد ایران کے بازار اور اقتصاد میں چین کی موجودگی سے ایران کی تجارت اور اقتصاد کے بہت سے شعبوں کو نقصان پہنچا لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے بقول تہران پابندیوں اور سختی کے دور کے اپنے دوستوں کو فراموش نہیں کرے گا اور نئے حالات میں بھی وہ چین کے ساتھ تعلقات کو زیادہ فروغ دینا چاہتا ہے۔
چین کے محکمہ کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار چودہ میں ایران اور چین کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح باون ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور اس سال کے دوران ایران کی کل غیرملکی تجارت میں سے چھتیس فیصد تجارت چین کے ساتھ تھی۔
ایران کے نئے حالات میں بھی کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد اور مالی و اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ایران میں مغرب اور ایشیا کی بڑی کمپنیوں کے درمیان رقابت ہو گی، تعاون کی بڑھتی ہوئی گنجائش کے مطابق ایران اور چین کے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بدستور بہت سے مواقع موجود ہیں۔
اسی بنیاد پر صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ چین پابندیوں کے خاتمے کے بعد کے دور میں ایران کے اولین تجارتی حلیف کی حیثیت سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور تجارت میں زیادہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
چین کے صدر نے بھی تہران میں اپنے ایک بیان میں ایٹمی معاہدے کے حصول کو دو طرفہ تعلقات میں فروغ کے نئے مواقع پیدا ہونے کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین، ایران کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے اور مطلوب پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر دو طرفہ تعاون اور تعلقات کی سطح بڑھانے پر تیار ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا جامع، طویل مدت اور پائیدار آغاز ہو۔
چین کے صدر کے دورہ تہران کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں منجملہ اقتصادی، صنعتی، ثقافتی اور عدلیہ میں تعاون کی سترہ دستاویزات پر دستخط کیے گئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد کے حالات میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی مسائل خصوصا اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی بھی تہران میں چین کے صدر کے مذاکرات میں شامل ہو گی۔
چین کے صدر شی جین پینگ نے مشرق وسطی کا اپنا پانچ روزہ دورہ منگل سے شروع کیا اور ایران آنے سے قبل وہ سعودی عرب اور مصر گئے۔
ایران اور اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ چین کے قریبی سیاسی و اقتصادی تعلقات کے پیش نظر بظاہر بیجنگ، تہران اور ریاض کے کشیدہ تعلقات کی موجودہ صورت حال میں ایک مضبوط ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آنا چاہتا ہے۔