ہندوستانی وزیر اعظم کا دورہ ریاض
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i219400-ہندوستانی_وزیر_اعظم_کا_دورہ_ریاض
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیاں تعاون میں توسیع لانے کی نئی دہلی کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۴ Asia/Tehran
  • ہندوستانی وزیر اعظم کا دورہ ریاض

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیاں تعاون میں توسیع لانے کی نئی دہلی کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے

انرجی، سیکورٹی اور سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعاون کے بارے میں گفتگو کرنا نریندری مودی کے دورہ ریاض کا ھدف بتایا گیا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ ریاض میں کئی تجارتی معاہدوں منجملہ سرمایہ کاری اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط ہونگے۔

سیاسی مبصرین کی نگاہ میں ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں ہمہ گیر توسیع لانے کا عمل دوہزار چھے میں شروع ہوا، اس سال سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبداللہ نے دہلی کا دورہ کیا تھا اور ہندوستان کے یوم جمہوریہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی اور فوجی پریڈ کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس کے بعد دوہزار دس میں ہندوستان کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سعودی عرب کا تین دن کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ دوہزار پندرہ کے آغاز میں ہندوستان کے نائب صدر حامد انصاری نے ملک عبداللہ کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی اس کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا حالیہ دورہ نئی دہلی ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں تازہ ترین واقعہ شمار ہوتا ہے۔

ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا زیادہ تر تعلق اقتصادی امور اور سعودی عرب میں ہندوستانی ورک فورس سے تھا اور اسی وجہ سے سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی شریک شمار ہوتا ہے اور ہندوستان سے سعودی عرب کے لئے برآمدات کی مالیت تقریبا گیارہ ارب ڈالر ہے۔ ہندوستان کے تیس لاکھ شہری سعودی عرب میں کام کررہے ہیں اور یہ لوگ سالانہ دس ارب ڈالر زر مبادلہ اپنی حکومت کے لئے روانہ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے سعودی عرب میں ہندوستانی ورک فورس کی صورتحال نئی دہلی کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور لگتا ہےکہ اسی وجہ سے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کے دورے میں سعودی عرب کے مختلف اقتصادی منصوبوں میں مشغول ہندوستانی مزدوروں سے ملاقات کی ہے۔

حالیہ مہینوں میں ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشرق وسطی کے حالات بالخصوص یمن پر سعودی عرب کی جارحیت اور اس حملے میں شریک ہونے کے لئے اسلام آباد کی جانب سے اپنی فوج یمن روانہ کرنے کے سعودی عرب کے مطالبے کومسترد کرنے کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے ہندوستان اور سعودی عرب کو مناسب موقع ملا ہے کہ وہ اپنے فوجی اور سیکورٹی شعبوں میں اپنے تعلقات کو توسیع دے سکیں۔

دوہزار چودہ میں ہندوستان اور سعودی عرب نے فوجی تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔ اس وقت موجودہ بادشاہ سلمان ولی عھد تھے۔اس معاہدے میں ٹریننگ، تجربوں کا تبادلہ اور فوجی حکام کے ایک دوسرے کے ملک کے دورے شامل ہیں۔

درایں اثنا پاکستان کے میڈیا نے ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ ریاض کو ایک طرح کی موقع پرستی سے تعبیر کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان نے یمن میں فوجی تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا لھذا ہندوستان سعودی حکام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

بہرحال سعودی عرب جو اس وقت شام میں دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے اورجس نے یمن پر جنگ چھیڑ رکھی ہے اور یمنی عوام کا بے تحاشہ قتل عام کررہا ہے اب نہایت سخت حالات کا شکار ہے۔

اس کےعلاوہ ریاض کو دہشتگردی کے خلاف نام نہاد اتحاد بنانے میں بھی ناکامی ہوئی ہے اور یہ سعودی عرب کی دوسری بڑی شکست ہے اس وجہ سے سعودی عرب کے حکام ہر موقع سے دیگر ملکوں کو دوست بنانے اور ان سے مدد حاصل کرنے میں فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے اور ہندوستان بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اہم تجارتی، فوجی اور سیکورٹی معاہدے کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

سعودی عرب روانہ ہونے سے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں نئی دہلی اور ریاض کے تعلقات کو خصوصی تعلقات قراردیا۔ یہ بات مندرجہ بالا تجزیہ کے تناظر میں قابل غور ہے۔

نریندر مودی نے اپنے بیان میں تاکید کی ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب کی قوموں کے دوستانہ تعلقات دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اور نریندر مودی اس دورے میں علاقے کی صورتحال کے بارے میں بھی سعودی حکام سے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔