چین کے خلاف امریکہ اور ہندوستان کا تعاون
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i224365-چین_کے_خلاف_امریکہ_اور_ہندوستان_کا_تعاون
ہندوستان اور امریکہ چین کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے تعاون کررہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۰ Asia/Tehran
  • چین کے خلاف امریکہ اور ہندوستان کا تعاون

ہندوستان اور امریکہ چین کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے تعاون کررہے ہیں۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق بحر ہند میں چین کی فوجی نقل و حرکت اس بات کا سبب بنی ہےکہ واشنگٹن اور نئی دہلی چین کی آبدوزوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے دفاعی تعلقات میں توسیع لائیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شایع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان دونوں جنوبی چینی سمندر میں چینی بحریہ کی جاہ طلبی سے تشویش میں مبتلا ہیں اور بیجنگ کے نئے اقدامات سے بحرہند میں ہندوستان کے تسلط کے سامنے چیلنج پیدا ہوگئے ہیں۔ ہندوستان جس نے گذشتہ دہائیوں میں امریکہ سے اپنے فوجی تعلقات بڑھانے میں بڑا محتاط رویہ اپنائے رکھا تھا، اس نے آخر کار نئی ٹیکنالوجی کے عوض امریکی فوج پر اپنے فوجی اڈے کھول دیئے ہیں تا کہ وہ چین کا مقابلہ کرسکے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اینٹی سب میرین وار فیرanti-submarine warfare کے بارے میں مذاکرات کریں گے۔ ہندوستان یہ کوشش کررہا ہے کہ بحر ہند میں اپنا تسلط اور اقتدار قائم رکھے، اسی بنا پرحال ہی میں سری لنکا اور چین کے درمیان بحریہ کے شعبے میں تعاون کے پیش نظر ہندوستان نے بحر ہند میں چین کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی وسیع کوششیں شروع کردی ہیں۔

درایں اثنا بنگلادیش اور نیپال نے چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا ہے جس سے ہندوستان کو برصغیرہند میں اپنی پوزیشن کے کمزور ہونے کی بابت تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کی بنا پر ہندوستان نے چین پر پابندی لگانے کی امریکہ کی پالیسیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ چین اپنی اقتصادی اور فوجی ترقی کی بنا پرآئندہ دہائیوں میں اس کی فوجی طاقت کے سامنے سنگین چیلنج بن کر سامنے آئے گا، اسی وجہ سے گذشتہ دو برسوں میں امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا کی اقتصادی تعاون تنظیم آسیان کے ملکوں کے ساتھ چین کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اپنا فوجی اثر ورسوخ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

جنوبی چینی سمندر میں امریکہ کی فوجی موجودگی میں اضافہ اور فلپائن جیسے ملکوں کے ساتھ فوجی مشقیں کرنا نیز علاقے میں اپنے فوجی اڈوں کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے معاہدے کرنا چین کو اسکی آبی اور زمینی سرحدوں میں محدود کرنے کی امریکہ کی ہمہ گیر کوششوں کی نشانیاں ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی اسٹراٹیجیک پالیسیوں میں مشرقی ایشیا کی طرف فوجیں بھیجنا شامل ہے۔ اسی ھدف کے تحت اس علاقے میں امریکہ کی فوجی موجودگی میں خاصہ اضافہ ہوا ہے جس کو دیکھتے ہوئے چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیجنگ پر روک تھام کی امریکی پالیسیوں سے آگاہ ہے۔ ان تمام امور کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ چین، امریکہ اور علاقے کے ملکوں کے ساتھ صف آرائی پر مائل نہیں ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے حق میں ہے۔ چین نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ علاقے میں مداخلت نہ کرے۔

واضح رہے امریکہ نے عملا یہ ثابت کردیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں اور جاپان کے علاوہ ہندوستان کو بھی بحر ہند میں اپنی پالیسیوں کا ہمنوا بنانے کی کوشش کررہا ہے اورنئی دہلی کے ساتھ بحریہ کے شعبے میں تعاون کرکے چین کی آبدوزوں پرنظر رکھے۔

قابل ذکرہے کہ چین نے ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور ہندوستان کے ساتھ اپنے سرحدی اختلافات حل کرنا چاہتاہے لیکن چین کی بحری سرگرمیوں اوراسکی آبدوزوں پر نظر رکھنے کےلئے ہندوستان اور امریکہ کے تعاون سے نئی دہلی اور بیجنگ کے تعاون میں کشیدگی آسکتی ہے اور ان دونوں ملکوں کے اختلافات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہےکہ امریکہ جو سب سے زیادہ آبادی والے ایٹمی ممالک چین اور ہندوستان کی دوستی سے تشویش میں مبتلا ہے اور انکی دوستی اور اتحاد نیز فوجی اور اقتصادی شعبوں سمیت مختلف میدانوں میں ان کے باہمی تعاون کا سد باب کرنا چاہتا ہے۔