امت اسلامی جاہلیت کا مقابلہ کرے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i224707-امت_اسلامی_جاہلیت_کا_مقابلہ_کرے
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ امت اسلامی کا سب سے بڑا فریضہ جاہلیت سے مقابلہ کرنا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۳ Asia/Tehran
  • امت اسلامی جاہلیت کا مقابلہ کرے

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ امت اسلامی کا سب سے بڑا فریضہ جاہلیت سے مقابلہ کرنا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ امت اسلامی کا سب سے بڑا فریضہ جاہلیت سے مقابلہ کرنا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جمعرات ستائیس رجب کو عید مبعث کے موقع پرتہران مین متعین اسلامی ملکوں کے سفیروں اور شہدا کے گھرانوں سے خطاب میں اس ذمہ داری پر تاکید کی۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی تعلیمات کو عام کرنے میں پیش پیش ہے اور جو تحریک حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے شروع کی تھی اسے بڑی طاقتوں سے مرعوب ہوئے بغیر جاری رکھے گی۔ آپ نے فرمایا کہ انسانیت کو ہمیشہ بعثت کی تعلیمات کی ضرورت رہے گی۔ آپ نے جاہلیت کے محاذ کو بعثت کا مقابل محاذ قراردیتے ہوئے کہا کہ جاہلیت کے محاذ کا تعلق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے نہیں ہے بلکہ انبیاء الھی نے ھدایت کا جو راستہ متعارف کرایا تھا اس کے مد مقابل محاذ کا نام ہے اور آج بھی جاہلیت کا محاذ سائنس اور ٹکنالوجی سے استفادہ کرکے نئی شکل میں سامنے آیا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی کی اس بات پر تاکید کہ اسلامی جمہوریہ ایران بعثت کی تعلیمات کو عام کرنے والی پیشرو حکومت ہے اور وہ بڑی طاقتوں سے مرعوب ہوئے بغیر یہ کام انجام دے گی ان اھداف کی یاد آوری کرتا ہے جنہیں اسلامی انقلاب نے حاصل کرلیا ہے اور اپنی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ کے تسلط کے قلعے ڈھا دئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ابتدا ہی سے ظالمانہ نظاموں سے اپنا راستہ الگ کرلیا تھا اور مشرقی بلاک اور جاہلیت کے محاذ سے وابستہ ہوئے بغیر ہی ڈٹا رہا۔ یہ بات بلا سبب اور بلادلیل نہیں ہےکہ اسلام، ایران اور تشیع کی مخالفت کرنا امریکہ اور اس کی آلہ کار حکومتوں کی بنیادی پالیسی ہے۔ امریکہ نے صحیح اندازہ لگایا تھا کہ یہ عظیم تحریک جسکا دوسرا نام اسلامی بیداری ہے تسلط پسند نظام اور صیہونی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے اور اس نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروے کار لانا شروع کیں تا کہ اسرائیل کو سکیورٹی فراہم کرسکے۔ اسی نکتے کے پیش نظر رہبرانقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے کہ دنیا پر حکمران صیہونی نظام شیطانوں کی نظام سازی کا واضح نمونہ ہے۔ آپ نےفرمایا ہے کہ دنیا کی آج کی صورتحال صیہونی سرمایہ داروں کے وسیع نیٹ ورک کی حکمرانی کا نتیجہ ہے یہانتک کہ انہوں نے امریکہ جیسی حکومت پر بھی غلبہ حاصل کرکے اس میں اپنا اثر و نفوذ قائم کرلیا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے حالات سے پتہ چلتا ہےکہ صیہونی حکومت خاص طور سے اسلامی بیداری کے شروع ہونے کے بعد سے بڑے سخت حالات سے دوچار ہوچکی ہے اور چاہتی ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد کو نابود کرکے استقامت اور امت اسلام کو چیلنجوں سے دوچار کردے۔ امریکہ کے لئے جو چیز اسلامو فوبیا اور ایرانو فوبیا کے دائرے میں اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ وہ شام و لبنان اور فلسطین میں استقامت کے حلقوں کو کمزور بنا کر صیہونی حکومت کے لئے سکیورٹی فراہم کرسکے اور اس کی پوزیشن کو برقرار رکھ سکے۔ اسی بنا پر عالم اسلام کو آج جن خطروں کا سامنا ہے وہ اپنے اصولوں اور حقیقی اسلامی بیداری سے غفلت کرنا نیز علاقے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے خطروں سے غافل رہنے سے عبارت ہیں۔ اس زمانے میں جسے شیطانی حکومتوں کے مقابل ساری دنیا کی قوموں کی بیداری کا زمانہ کہا جاتا ہے، مغرب اسلامی بیداری اور قوموں کے سیاسی شعور سے تشویش میں مبتلا ہوچکا ہے اور مختلف طریقوں سے یہ کوشش کررہا ہے کہ اسلامو فوبیا اور ایرانو فوبیا کے ذریعے علاقے اور عالمی رائے عامہ کے سامنے اسلامی جمہوریہ ایران کی تصویرمسخ کرکے پیش کرے۔ لیکن اس کے ان اقدامات کے باوجود ایران نے دنیا کی مظلوم قوموں کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے بڑی طاقتوں کو چیلنج کردیا ہے اور یہ چیلنج بڑی اور سامراجی طاقتوں اور زمانہ جاہلیت کے افکار کو رواج دینے والے ملکوں سے کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے اور جب تک ظلم و جور اور جاہلیت باقی ہے جدوجہد اور پائداری بھی ختم نہیں ہوگی۔ جس طرح سے آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تاکید فرمائی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ اور فوجی اقدامات شروع نہیں کئے ہیں لیکن اپنے موقف کا بلند آواز میں اعلان کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔