چین کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کی حمایت
افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبدالله عبدالله اور پاکستان کے آرمی چیف کے ایک ہی وقت میں دورۂ چین سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ چین افغانستان کی صورتحال خصوصا اس ملک میں قیام امن کے سلسلے میں سرگرم عمل ہو گیا ہے۔
چین کے وزیر اعظم لی ککیانگ نے عبدالله عبدالله سے ملاقات کے دوران اپنے ملک کی جانب سے افغانستان میں قومی آشتی کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ تاکید کی کہ بیجنگ افغانستان میں قیام امن کی تعمیر نو اور سیاسی مذاکرات میں عمل دینے کے سلسلے میں اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائے گا۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ افغانستان کو ایک ہمسائے کے طور پر چین کی سفارت کاری میں ترجیح حاصل ہے کہا کہ افغانستان کی ترقی اور اتحاد بیجنگ کے لئے ہر اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔
دریں اثناء چینی وزیر اعظم نے لی ککیانگ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بیجنگ میں ملاقات اور مذاکرات کئے۔ فریقین نے اس ملاقات میں دو طرفہ اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات کی تقویت کے بارے میں مشاورت کی۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک راحیل شریف کے دورۂ بیجنگ اور ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے بارے میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اختلافات کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی حکومت اپنا فوجی سازوسامان چین سے خریدنے کے ذریعے فوجی سازوسامان کی منڈی میں تنوع پیدا کرنا چاہتی ہے۔ بہرحال افغانستان میں امن کا عمل چین کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ کابل اور اسلام آباد کے مواقف کو قریب تر لا کر افغانستان امن عمل کا احیا کرنا چاہتا ہے۔
چین پاکستان اور افغانستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر کے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئےکوشاں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس سلسلے میں بیجنگ کی کامیابی کا انحصار افغانستان اور پاکستان میں قیام امن پر ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب افغانستان میں امن مذاکرات کے احیا کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔ افغانستان کو اس سلسلے میں پاکستان پر کسی طرح کا اعتماد نہیں ہے اور وہ پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اس نے افغانستان کے بارے میں دہرا موقف اختیار کر رکھا ہے۔
چین نے امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ ہونے والے چار فریقی اجلاسوں میں شرکت کر کے دکھا دیا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کابل اور اسلام کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم اور افغانستان امن مذاکرات کا احیا کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے پاکستان آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا دورہ چین اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ افغانستان کا کیس پاکستانی فوج کے اختیار میں ہے۔
عبدالله عبدالله کے دورۂ پاکستان کے منسوخ ہونے سے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں شدید کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ افغانستان نے طالبان کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے تاکید کی ہےکہ وہ قیام امن کے لئے طالبان کو کچل کر رکھ دے گا۔
ان حالات میں اگرچہ چین کے حکام کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے فوجی اور سیاسی حکام کے ساتھ دو طرفہ یا سہ طرفہ ملاقاتوں کے بارے میں خبریں منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راحیل شریف کے ساتھ عبدالله عبدالله کی جو ملاقات اسلام آباد میں ہونا تھی اب یہ ملاقات بیجنگ میں ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔
بہرحال چین افغانستان کے سیاسی حالات میں سرگرم ہونے کی نسبت اس ملک کی تعمیر نو میں زیادہ فعال ہے اور اس نے پاکستان کے ساتھ بھی باہمی اقتصادی تعاون میں توسیع کے لئے چھیالیس ارب ڈالر کی ایک قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ چین پاکستان اور افغانستان کو باہمی تعاون کی رغبت دلا کر افغانستان امن عمل کے احیا کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں اپنی سرمایہ کاری کے نتائج حاصل کرنے کا راستہ ہموار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔