افغانستان میں قیام امن کے لئے چار فریقی اجلاس
امریکہ ، چین ، افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں کا چار فریقی اجلاس ایسی حالت میں اس ملک میں منعقد ہو رہا ہے کہ تین موضوعات، اجلاس پر چھایے ہوئے ہیں-
سب سے پہلا موضوع یہ ہے کہ حکومت افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ اسے چار فریقی اجلاس کے نتائج سے کوئی امید نہیں ہے کہ جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن کا طریقہ کار تیار کرنے کے لئے منعقد کیا جا رہا ہے-
دوسرے یہ کہ حکومت افغانستان نے چار افریقی اجلاس میں اپنی نمائندگی کی سطح نائب وزیر خارجہ سے اسلام آباد میں تعینات اپنے سفیر کی حدتک کم کر دی ہے- تیسرا موضوع یہ ہے کہ حکومت افغانستان نے ابھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے پروگراموں کی ترجیح، طالبان کے ساتھ امن سے جنگ میں اور اس ملک کے عوام کی سیکورٹی کی فراہمی میں تبدیل کر دی ہے-
اسی بنا پر افغانستان کے صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان دوا خان مینہ پال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان جب تک اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا اس وقت تک اسلام آباد میں چارفریقی اجلاس کے پانچویں مرحلے میں شرکت کرنا، وقت ضائع کرنا ہے-
افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان محمد خیر اللہ آزاد نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے چار فریقی اجلاس میں سابقہ چار اجلاسوں میں شریک ممالک کے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے تاکہ واضح ہو سکے کہ اس اجلاس کے اراکین خاص طور پر پاکستان نے کس حد تک اپنی ذمہ داریوں پر عمل کیا ہے-
افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان کے بقول چار فریقی اجلاس کی چوتھی نشست میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر طالبان مذاکرات کی میز پر نہیں آئے تو سب مل کر مشترکہ طور پر ان کے مالی ذرائع کو بند کرنے سمیت مختلف اقدامات کریں گے اور پانچویں اجلاس میں اس موضوع کا جائزہ لیا جائے کہ انھوں نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کئے ہیں-
سیاسی ماہرین کی نظر میں چار فریقی اجلاس ، حکومت افغانستان کے تحفظات سمیت بہت سے مسائل اور رکاوٹوں سے دوچار ہے کہ جس کا نتیجہ خیز ہونا کئی وجوہات کی بنا پر مبہم ہے - پہلے یہ کہ افغانستان کے حالات میں موثر اور اہم ممالک اس اجلاس میں موجود نہیں ہیں دوسرے یہ کہ طالبان جو امن مذاکرات کے اصلی فریق ہیں نہ صرف اس اجلاس میں بلائے نہیں گئے ہیں بلکہ انھوں نے اجلاس کے سلسلے میں ہمیشہ منفی موقف اختیار کیا ہے تیسرے یہ کہ حکومت افغانستان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اسے چار فریقی اجلاس سے کوئی امید نہیں ہے کیونکہ چین اور امریکہ افغانستان کے حالات کو پاکستان کی عینک سے دیکھتے ہیں جبکہ کابل حکومت کی نگاہ میں پاکستان نے چار فریقی اجلاس کے کسی بھی فیصلے اور معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے-
بہرحال سیاسی ماہرین کی نگاہ میں ایسی حالت میں جب حکومت افغانستان طالبان کے ساتھ جنگ پر تاکید کرتی ہے اور پاکستان کو افغانستان کے تمام مسائل کا ذمہ داری سمجھتی ہے اسلام آباد کی جانب سے پانچویں چار فریقی اجلاس کا انعقاد پاکستان کی جانب سے ایک منظم اقدام شمار ہوتا ہے-
درحقیقت یہ ملک، پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ کم کرنے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کی کوشش کر رہا ہے ، چار فریقی اجلاس جاری رکھنا چاہتا ہے- حکومت کابل نے اس اجلاس میں اپنی نمائندگی کی سطح کم کرتے ہوئے اجلاس کے نتائج کے سلسلے میں مایوسی ظاہر کرنے کے ساتھ ہی امریکہ اور چین کو چارفریقی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کی تشویق دلانے کی کوشش کی ہے-