Aug ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۵:۲۶ Asia/Tehran
  • امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ یمن میں سعودی عرب کےاتحاد کے لئے امریکہ محدود پیمانے پر مشاورتی خدمات دے رہا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹیمپ نے اس خبر کے سامنے آنے کے بعد، کہ امریکہ کے بہت سے فوجی مشیر سعودی عرب سے نکل گئے ہیں، جمعے کی رات کہا کہ جنگ یمن میں سعودی عرب کے اتحاد کو مشاورتی خدمات دینا کوئی غیر محدود عمل نہیں تھا۔ پینتالیس افراد پر مشتمل امریکی فوجی مشیروں کی ایک ٹیم نے دوہزار پندرہ کے آغاز سے یمن کے مختلف علاقوں پر حملے کرنے کےلئے سعودی عرب کو ماہرانہ خدمات پیش کی ہیں لیکن اب یہ خدمات محدود ہوگئی ہیں اور محض پانچ فوجی مشیر ہی آل سعود کے اتحاد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس چھبیس مارچ کو یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے جارح اتحادی ممالک نے وحشیانہ حملے کرنا شروع کئے تھے اور امریکہ نے سعودی عرب کے اسٹریٹیجیک اتحادی کی حیثیت سے سعودی عرب کے ساتھ تعاون میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور عالمی اداروں کی سطح پر بھی بچوں کی قاتل آل سعود حکومت کے لئے محفوظ ماحول فراہم کیا۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ کو سترہ مہینے گزرنے کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی خصوصیات میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ یمن میں سعودی عرب کے جرائم اور نہتے عوام کا قتل عام اس قدر وسیع ہے کہ امریکہ جنگ کے پہلے دنوں کی طرح اب راضی نہیں ہے کہ صاف لفظوں میں سعودی عرب کی سیاسی حمایت کرے۔ البتہ امریکہ دوسری طرح سے اس پالیسی پرعمل پیرا ہے اور بدستور آل سعود کو،جوکہ ایک جنگی مجرم ہے،  بھاری مقدار میں اپنے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ امریکی حکومت نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ امریکہ نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے ہیں۔ سعودی ڈالر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی سمت کا تعین کرتے ہیں اور یہ حربہ اس قدر کارگر ہے کہ جنگ یمن کے تعلق سے امریکہ کی جانب سے سعودی اتحاد کی واضح حمایت ختم ہونے کے بعد بھی ان تعلقات کی نوعیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات حتی دوسرے اداروں منجملہ اقوام متحدہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات پر سعودی ڈالر اس قدر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے سعودی عرب کا نام ہٹا دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی مدد بند کرنے کی دھمکی اور امریکی حمایت کے ذریعے بان کی مون کو مجبور کیا کہ یا تو وہ یمن میں بچوں کے حقوق کو پامال کرنے والی حکومتوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکالیں دیں یا پھر یمن میں مظلوم بچوں کی حمایت کا آپشن اختیار کریں، بان کی مون کو پہلا آپشن اختیار کرنا پڑا۔ سعودی عرب  سے امریکی فوجی مشیروں کو نکالنے پر مبنی پینٹاگون کے فیصلے کو شاید بظاہر عالمی رائے عامہ کے ساتھ چلنے تعبیر کیا جائے لیکن اس فیصلے کا جائزہ یمنی عوام کے فائدے کے بجائے موجودہ حساس اور سخت مرحلے میں ریاض واشنگٹن تعلقات کی مینیجمنٹ کے تناظر میں لیا جانا چاہئے۔