جہادی قائدین کی جانب سے عطا محمد نور کی حمایت
افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے صدر محمد اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلاف رائے جاری ہے ۔ دریں اثناء اس ملک کے جہادی قائدین نے صوبہ بلخ کے سرپرست عطا محمد نور کے ساتھ ملاقاتوں میں ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
عطا محمد نور نے صوبہ پروان کے چاریکار اور جبل السراج شہروں میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں عبداللہ عبداللہ اور محمد اشرف غنی کے درمیان جاری سیاسی بحران کے بارے میں جہادی کمانڈروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
عطا محمد نور نے تاکید کی کہ ہم افغانستان کی بری صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح سے آمادہ ہیں۔
افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے سربراہوں کے درمیان اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب عبداللہ عبداللہ نے ایک اجلاس میں کہا کہ یہ حکومت ایک سیاسی معاہدے کے تحت تشکیل پائی ہے لیکن صدر اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہے ہیں اور وہ افراد کو منصب عطا کرنے پر مبنی محمد اشرف غنی کے فیصلوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ افغان صدر محمد اشرف غنی نے بھی عبداللہ عبداللہ کے بیانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان ہونے والے سیاسی معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق ان کے اختلافات کے حل کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے۔
اس معاہدے کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کے دو سال بعد ایک لویہ جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور صدارتی نظام کو ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ وزیر اعظم ملک کا سربراہ ہوا کرے گا۔ اس کے علاوہ عبداللہ عبداللہ الیکشن سسٹم میں اصلاح پر بھی تاکید کرتے ہیں۔
ان کے حامیوں کے نزدیک محمد اشرف غنی نہ صرف سیاسی معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں قدم آگے نہیں بڑھا رہے ہیں بلکہ انہوں نے مجاہدین کی پوزیشن کمزور کرنے کے لئے غیر محسوس اقدامات انجام دینا شروع کر دیئے ہیں اور یہ افواہ پھیل چکی ہےکہ محمد اشرف غنی صوبہ بلخ کے سرپرست عطا محمد نور اور دوسرے سابق مجاہدین کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لئے مجاہدین نے عبداللہ عبداللہ اور عطا محمد نور کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ثابت کر دیا ہے کہ وہ آپس میں متحد ہیں اور وہ بدستور افغانستان کے سیاسی استحکام اور اس میں قیام امن کی حمایت کرتے ہیں۔
افغانستان میں سنہ دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت کی سرنگونی کے بعد مغربی ممالک خصوصا امریکہ اور اس کے پٹھووں کی جانب سے مجاہدین کو میدان سے نکال باہر کرنے، افغانستان کو مغربی ٹیکنوکریٹس کے حوالے کرنے اور اس کو خوشحال اور آباد کرنے پر مبنی افغان عوام کے ثمرات کو نابود کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوگیا۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ امکان بعید نہیں ہے کہ افغانستان میں بعض طاقتیں عبداللہ عبداللہ کے گروہ کو کمزور کر کے مجاہدین کو ملک کے سیاسی اور سیکورٹی کے میدان سے نکالنے کے درپے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ دو سال قبل افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنے آپ کو جیتا ہوا تصور کرتے تھے لیکن چونکہ پختون کسی دوسری قوم کے فرد کو اقتدار سونپنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئےانہوں نے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہی نہیں ہونے دیا۔ پھر اقوام متحدہ کی دخل اندازی کی وجہ سے عبداللہ عبداللہ اور محمد اشرف غنی نے سیاسی معاہدے پر دستخط کئے۔ جس کی رو سے طے پایا کہ حکومتی نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا اور عبداللہ عبداللہ وزیر اعظم کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ لیکن محمد اشرف غنی چونکہ اپنے اختیارات میں کمی لانے پر تیار نہیں ہیں اس لئے انہوں نے نہ صرف سیاسی معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ ان کا حامی گروہ اس موقف کو ہوا دے رہا ہے کہ متحدہ قومی حکومت کو دو سال مکمل ہونے کے ساتھ ہی اس کا کام بھی تمام ہوچکا ہے اور عبداللہ عبداللہ کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہئے۔ لیکن عبداللہ عبداللہ نے صدر پر سیاسی معاہدے کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا کر اس گروہ کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔