عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں فروغ، ثامر السہبان کی تبدیلی پر منحصر
عراق میں متعین سعودی عرب کے سفیر ثامر السہبان کے متنازعہ بیانات اور مداخلت پسندانہ اقدامات کے بعد بغداد حکومت نے ریاض حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی اور شخص کو ان کی جگہ سفیر مقرر کرے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ عراق میں ثامر السہبان کی تعیناتی کو ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہے لیکن بغداد نے باضابطہ طور پر ریاض سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انھیں عراق سے واپس بلا لے۔ عراقی وزارت خارجہ نے ثامر السہبان پر اپنے ملک کے داخلی امور میں کھلی مداخلت کرنے کا الزام لگایا ہے۔
دسمبر دو ہزار پندرہ میں عراق میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے برسوں کے تعطل کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ثامر السہبان نے سفیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ سعودی عرب نے انیس سو نوے میں کویت پر صدام حکومت کے حملے کے بعد عراق میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔
دو ہزار چار میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب اور عراق نے اپنے تعلقات نمائندگی کی سطح پر بحال کیے اور سعودی عرب نے اسی سال پہلے قدم کے طور پر عراق کے ساتھ اپنے تعلقات سفارتی نمائندگی کی سطح پر قائم کیے۔
اور پھر آخرکار دسمبر دو ہزار پندرہ میں بغداد میں سعودی عرب کا سفارت خانہ ایک بار پھر کھل گیا اور تقریبا پچیس سال کے بعد ریاض اور بغداد کے سفیر کی سطح پر تعلقات برقرار ہوئے اور ثامر السہبان نے سعودی عرب کے سفیر کی حیثیت سے بغداد میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔
صدام کی بعثی حکومت کے خاتمے نے عراق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر دیا کہ وہ سعودی عرب سمیت علاقے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے۔
عراق صدام حکومت کے بعد کے دور میں عرب دنیا میں موثر واپسی کے راستے پر قدم بڑھا رہا ہے اور اس موثر واپسی کے لیے ضروری ہے کہ عراق علاقائی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ قابل قبول تعلقات کا حامل ہو۔
اس نظر سے اگر دیکھا جائے تو بغداد میں سعودی عرب کا سفارت خانہ دوبارہ کھلنے سے اس کے ساتھ عراق کے سفارتی تعلقات کا سنگ بنیاد رکھا گیا لیکن بغداد میں ثامر السہبان کی موجودگی سے سعودی عرب کے سفیر کی سفارتی سرگرمیوں پر عراق کے سیاسی حالات کا سایہ رہا۔
سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے نو ماہ کے دوران، ثامر السہبان کی سفارتی سرگرمیاں بغداد - ریاض تعلقات کو فروغ دینے کے تناظر میں نہیں تھیں۔ سعودی سفیر کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عراق کو عرب دنیا میں واپس لانے کے لیے انجام نہیں دی گئی ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسے کمزور کرنے کے لیے ہیں۔
بغداد میں سعودی سفیر کی سرگرمیاں سفارتی آداب کے منافی ہیں اور ان کے جاری رہنے سے عراقی حکومت کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور وسیع تعلقات کے لیے نیک نیتی اور قومی مفادات کا احترام ضروری ہے۔ ثامر السہبان کے اقدامات اس اصول کے احترام کی نشان دہی نہیں کرتے ہیں اور ان سے سعودی عرب اور عراق کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔
ثامر السہبان کی سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں کی وجہ سے ان پر ہونے والی تنقید میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ عراقی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایک خط کے ذریعے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ بغداد میں ثامر السہبان کے بجائے کسی اور شخص کو اپنا سفیر مقرر کرے۔ عراقی وزارت خارجہ نے اس بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ثامر السہبان نے نہ صرف سفارتی قوانین کی پابندی نہیں کی ہے بلکہ انھوں نے عراق کے داخلی امور میں بھی مداخلت کی ہے اور یہ چیز عراقی قوم اور حکومت کے لیے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
ثامر السہبان کا تیسرے فریق کے حمایت یافتہ ایک خاص طبقے کی جانب سے اپنے ممکنہ قتل کا سیاسی پروپیگنڈا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر اور کارآمد قوت کی حیثیت سے عوامی رضاکار فورس یعنی الحشد الشعبی کے خلاف بیانات اور شیعوں پر فرقہ وارانہ طرزعمل اختیار کرنے کا الزام لگانا، عراق کے مفادات اور قومی حاکمیت سے منافات رکھتا ہے۔
ان کا یہ رویہ بغداد اور ریاض کے تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کے برخلاف ہے اور اس کی اصلاح کا واحد راستہ ثامر السہبان کو تبدیل کرنے کے سلسلے میں عراقی وزارت خارجہ کا درست اور منطقی موقف اختیار کرنا ہے۔