اسلووینیا کے صدر کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i259255-اسلووینیا_کے_صدر_کی_رہبرانقلاب_اسلامی_سے_ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلووینیا کے صدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ خود مختار ملکوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اقوام پر ڈالے جانے والے دباؤ کے مقابلے میں سرگرم کردار ادا کریں۔آپ نے آزاد و خود مختار ممالک سے کہا کہ خاموش اور تماشائی نہ بنے رہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۴ Asia/Tehran
  • اسلووینیا کے صدر کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلووینیا کے صدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ خود مختار ملکوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اقوام پر ڈالے جانے والے دباؤ کے مقابلے میں سرگرم کردار ادا کریں۔آپ نے آزاد و خود مختار ممالک سے کہا کہ خاموش اور تماشائی نہ بنے رہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مغربی ایشیا میں جاری جنگوں اور داعش جیسے دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کو بعض طاقتوں کی مداخلت اور نظریات مسلط کرنے کا نتیجہ قراردیا اور فرمایا کہ تمام ملکوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان جنگوں کے شعلوں کو خاموش کرنے کی کوشش کریں۔ آپ نے داعش کے خلاف امریکی اتحاد کو ناکام قرار دیا اور یاد دہائی کرائی کہ امریکہ داعش کی بیخ کنی کرنا نہیں چاہتا ہے بلکہ اس کے مقابلے میں کچھ اس طرح سے عمل کرنا چاہتا ہے کہ داعش کا مسئلہ عراق و شام میں جوں کا توں رہے اور حل نہ ہو۔

مختلف علاقوں جیسے یورپ سے لے کے مغربی ایشیاء اور مرکزی ایشیاء اور دیگر علاقوں کے لئے امریکہ کی پالیسیاں قیام امن پر منتج نہیں ہوئی ہیں۔ امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے  مختلف علاقوں میں بہت سی مشکلات اور بحرانوں نے سر اٹھایا ہے۔

مغرب کے تعلق سے امریکی نقطہ نظر کی بنا پر یورپی ممالک بھی امریکی اھداف و پالیسیوں کے تناظر میں ہی اپنی پالیسیاں بناتے ہیں اور اسی وجہ سے بنیادی طورپر یورپی ملکوں کی خود مختاری پر سوالیہ نشانہ لگ جاتا ہے اور آج یورپی ممالک مشرق وسطی کے مسائل کے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مغرب کی یہ پالیسی عوام کے احتجاج کا بھی سبب بنی ہے اور اس سے علاقے میں بحرانوں میں شدت آئی ہے۔ یورپ کے خود مختار ممالک شام، بحرین، یمن اور فلسطین کے بحرانوں کے تعلق سے دہشتگردی سے مقابلے اور ان ملکوں کے مسائل حل کرنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن عملی طور سے ان کے پاس مشرق وسطی کی قوموں کے پرانے زخموں پر رکھنے کو کوئی مرہم نہیں ہے۔ دہشتگردی کے مقابلے، انسانی حقوق،اور جمہوریت کے اصولوں کے بارے میں دوہری پالیسیاں اپنانے سے علاقے کی قومیں سخت مسائل کا شکار ہیں اور یورپ کے ملکوں نے ان مسائل میں امریکہ سے کم کردار ادا نہیں کیا ہے۔ مثال کے طور پر مغرب بالخصوص امریکہ ایسے عالم میں بحران شام کے حل کی بات کررہا ہے کہ اس نے عملی طور پر شام میں بحران میں شدت لانے اور داعش سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کی زمین فراہم کی ہے۔ شام میں دہشتگردی کو اچھی اور بری دہشتگردی میں تقسیم کرنا اور نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہوں کو وجود میں لانا یورپ کی سرحدوں تک دہشتگردی کے پھیلنے کا سبب ہے۔

اس سے قبل امریکہ اور برطانیہ نے عراق میں کیمیاوی ہتھیاروں کی نابودی کے بہانے لشکر کشی کی تھی جس کے نتیجے میں دہشتگرد گروہ داعش معرض وجود میں آیا تھا اور اس نے عراق و شام میں دہشتگردی پھیلانا شروع کردی تھی۔ اب ہم داعش کے خلاف امریکہ کی پالیسی کو جو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہےکہ امریکہ نے مختلف ملکوں منجملہ یورپی ملکوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف اتحاد بنایا تھا لیکن اس اتحاد نے داعش کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے بلکہ ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ امریکہ داعش کو نابود کرنا نہیں چاہتا ہے۔

یمن و بحرین کے تعلق سے بھی یورپ  کی پالیسی امریکہ سے ہم آہنگ ہیں کیونکہ انہوں نے بھی بظاہر خوبصورت نعروں کے سائے میں یمنی عوام کے قتل عام  کے لئے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے اور بحرینی عوام کو کچلنے سے متعلق آل خلیفہ کے اقدامات کی حمایت میں شدت پیدا کردی ہے۔ ان پالیسیوں کا نتیجہ یمن اور بحرین کے عوام کی مشکلات میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔